حدیث نمبر: 19634
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ} [الأنعام: 119]، وَقَالَ: {إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ} [البقرة: 173]. قَالَ مُجَاهِدٌ: {غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ} [البقرة: 173] يَقُولُ: غَيْرَ قَاطَعٍ السَّبِيلَ وَلَا مُفَارِقٍ الْأَئِمَّةَ وَلَا خَارِجٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ جَلَّ جَلَالُهُ..
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾ ”حالانکہ اس نے تمہارے لیے وہ چیزیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، سوائے اس کے جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ۔“ [سورة الأنعام: 119]
اور فرمایا: ﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ ”اس نے تم پر صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ چیز حرام کی ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، پھر جو شخص مجبور ہو جائے، نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ [سورة البقرة: 173]
مجاہد رحمہ اللہ نے ﴿غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ﴾ ”نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا۔“ [سورة البقرة: 173] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی نہ ڈاکہ ڈالنے والا ہو، نہ مسلمانوں کے حکمرانوں سے الگ ہونے (اور بغاوت کرنے) والا ہو، اور نہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی (کے سفر) میں نکلنے والا ہو۔“...
اور فرمایا: ﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ ”اس نے تم پر صرف مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ چیز حرام کی ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، پھر جو شخص مجبور ہو جائے، نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ [سورة البقرة: 173]
مجاہد رحمہ اللہ نے ﴿غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ﴾ ”نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا۔“ [سورة البقرة: 173] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی نہ ڈاکہ ڈالنے والا ہو، نہ مسلمانوں کے حکمرانوں سے الگ ہونے (اور بغاوت کرنے) والا ہو، اور نہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی (کے سفر) میں نکلنے والا ہو۔“...
حدیث نمبر: 19634
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَاتَ بَغْلٌ، أَوْ قَالَ: نَاقَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَفْتِيَهُ، فَزَعَمَ جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِهَا: " أَمَا لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: " اذْهَبْ كُلْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی شخص کا خچر یا اونٹنی مر گئی، وہ نبی ﷺ سے فتویٰ پوچھنے آیا تو جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے کوئی چیز اس سے بے پروا کرنے والی ہے؟“ اس نے جواب دیا: کوئی چیز موجود نہیں۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ جا کر کھا لو۔“
حدیث نمبر: 19635
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا نَزَلَ الْحَرَّةَ وَمَعَهُ أَهْلُهُ وَوَلَدُهُ فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ نَاقَةً لِي قَدْ ضَلَّتْ فَإِنْ ⦗٥٩٨⦘ وَجَدْتَهَا فَأَمْسِكْهَا. فَوَجَدَهَا فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبَهَا فَمَرِضَتْ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: انْحَرْهَا. فَأَبَى فَنَفَقَتْ فَقَالَتْ: اسْلُخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ شَحْمَهَا وَلَحْمَهَا وَنَأْكُلَهُ. فَقَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكَ غِنًى يُغْنِيكَ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: " فَكُلُوهَا ". قَالَ: فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: هَلَّا كُنْتَ نَحَرْتَهَا؟ قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ. تَابَعَهُمَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی بچوں سمیت باہر پتھریلی زمین پر پڑاؤ کیا تو کسی نے اس سے کہا: میری اونٹنی گم ہوگئی ہے، اگر مل جائے تو اسے اپنے پاس رکھ لینا۔ اونٹنی مل گئی لیکن مالک نہ آیا اور اونٹنی بیمار ہوگئی۔ بیوی نے اسے ذبح کرنے کا کہا لیکن مرد نے انکار کردیا اور وہ مرگئی، تو بیوی نے کہا: اس کی کھال اتار دو، تاکہ اس کی چربی اور گوشت کے ٹکڑے کر کے کھائے جاسکیں۔ اس شخص نے کہا: پہلے رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی چیز تجھے اس سے غنی کرتی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھالو۔“ جب اونٹنی کا مالک آیا تو اس نے پوچھا کہ تو نے اسے ذبح کیوں نہ کیا تھا؟ تو وہ کہنے لگا: میں نے تجھ سے شرم محسوس کی تھی۔
حدیث نمبر: 19636
وَفِيمَا رَوَى إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ مَرْثَدٍ أَوْ أَبِي مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ؟ فَقَالَ: " إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا، أَوْ لَمْ تَغْتَبِقُوا، أَوْ لَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا ". أَخْبَرَنِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِجَازَةً، أَنَّ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ صُبَيْحٍ أَخْبَرَهُمْ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اپنے علاقہ میں جہاں بھوک پریشان کرتی ہے، ہمارے لیے مردار کب حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم صبح و شام کھانا یا سبزی نہ پاؤ تو تمہارے لیے مردار کھانا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 19637
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ هَارُونَ الزَّاهِدُ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا تُصِيبُنَا مَخْمَصَةٌ فَمَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ؟ قَالَ: " إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا أَوْ تَغْتَبِقُوا أَوْ تَحْتَفِئُوا بِهَا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اگر کسی علاقہ میں بھوک ہمیں پریشان کرے تو مردار کھانا کب حلال ہے؟ فرمایا: ”جب صبح و شام کھانا یا سبزی نہ پاؤ تو پھر مردار کھانا تمہارے لیے جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 19638
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَكُونُ بِالْأَرْضِ فَتُصِيبُنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ فَمَتَى تَحِلُّ لَنَا الْمَيْتَةُ؟ فَقَالَ: " مَا لَمْ تَصْطَبِحُوا أَوْ تَغْتَبِقُوا أَوْ تَحْتَفِئُوا بِهَا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ أَبُو عُبَيْدةٍ: هُوَ مِنَ الْحَفَأ، وَهُوَ مَهْمُوزٌ مَقْصُورٌ، وَهُوَ أَصْلُ الْبُرْدِيِّ الْأَبْيَضِ الرَّطْبِ مِنْهُ وَهُوَ يُؤْكَلُ، فَتَأَوُّلُهُ فِي قَوْلِهِ: تَحْتَفِئُوا، يَقُولُ: مَا لَمْ تَقْتَلِعُوا هَذَا بِعَيْنِهِ فَتَأْكُلُوهُ. قَالَ أَبُو ⦗٥٩٩⦘ عُبَيْدٍ: وَأَمَّا قَوْلُهُ: مَا لَمْ تَصْطَبِحُوا أَوْ تَغْتَبِقُوا فَإِنَّهُ يَقُولُ: إِنَّمَا لَكُمْ مِنْهَا الصَّبُوحُ وَهُوَ الْغَدَاءُ، وَالْغَبُوقُ وَهُوَ الْعَشَاءُ، يَقُولُ: فَلَيْسَ لَكُمْ أَنْ تَجْمَعُوهُمَا مِنَ الْمَيْتَةِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: رَأَيْتُ عِنْدَ الْحَسَنِ كُتُبَ سَمُرَةَ لِبَنِيهِ أَنَّهُ يُجْزِي مِنَ الِاضْطِرَارِ أَوِ الضَّرُورَةِ صَبُوحٌ أَوْ غَبُوقٌ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا التَّفْسِيرُ الَّذِي فَسَّرَهُ أَبُو عُبَيْدٍ رَحِمَهُ اللهُ صَحِيحٌ لَمَّا حَدَّثَ عَنْ كِتَابِ سَمُرَةَ، فَأَمَّا الْخَبَرُ الْمَرْفُوعُ فَقَدْ قِيلَ يُحْتَمَلُ أَنَّهُ إِنَّمَا قَصَدَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ إِحْلَالَ الْمَيْتَةِ لَهُمْ مَتَى مَا لَمْ يَكُنْ لَهُمْ مِنَ الْحَلَالِ صَبُوحٌ أَوْ غَبُوقٌ أَوْ بَقْلَةٌ يَعِيشُونَ بِأَكْلِهَا، وَهَذَا هُوَ الَّذِي يَلِيقُ بِسُؤَالِهِمْ فِي رِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدٍ مَتَى تَحِلُّ لَنَا الْمَيْتَةُ، وَبِقَوْلِهِ: أَوْ تَحْتَفِئُوا بِهَا بَقْلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کسی علاقے میں بھوک پریشان کرتی ہے، ہمارے لیے مردار کب حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب صبح یا شام کے وقت کھانا یا سبزیاں نہ پاؤ، پھر تمہاری جو حالت ہو۔“
ابو عبید کہتے ہیں کہ «الْجَفَاء» سے مراد تر کھجور ہے جس کو کھایا جاتا ہے، یعنی صبح و شام دونوں وقت مردار کھانے کو جمع نہ کرو۔
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ کو دیکھا، انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو خط لکھ کر دیا کہ بوقتِ مجبوری یا ضرورت یہ چیز انسان کو کفایت کر جائے گی۔
شیخ فرماتے ہیں: مردار تب حلال ہے جب صبح و شام حلال کھانا میسر نہ ہو جس کے ذریعے زندگی گزاری جا سکے۔
ابو عبید کہتے ہیں کہ «الْجَفَاء» سے مراد تر کھجور ہے جس کو کھایا جاتا ہے، یعنی صبح و شام دونوں وقت مردار کھانے کو جمع نہ کرو۔
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ کو دیکھا، انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو خط لکھ کر دیا کہ بوقتِ مجبوری یا ضرورت یہ چیز انسان کو کفایت کر جائے گی۔
شیخ فرماتے ہیں: مردار تب حلال ہے جب صبح و شام حلال کھانا میسر نہ ہو جس کے ذریعے زندگی گزاری جا سکے۔
حدیث نمبر: 19639
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَارِجَةُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَعْطَانِي كِتَابًا عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَرْوَيْتَ أَهْلَكَ مِنَ اللَّبَنِ غَبُوقًا فَاجْتَنِبْ مَا نَهَاكَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْمَيْتَةِ. وَهَذَا يُؤَكِّدُ مَا قَبْلُ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَمَا فَسَّرَهُ بِهِ أَبُو عُبَيْدٍ أَشْهَرُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَأَلْيَقُ بِقَوْلِهِ: فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ فِي رِوَايَةِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَذَكَرَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُلَيْمِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِهِ، وَقَالَ: فَأَبَانَ أَنَّهُمْ إِذَا لَمْ يَأْكُلُوهَا أَكْلَ الطَّعَامِ الْمُبَاحِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِمْ فِيهَا، فَأَكْلُ الطَّعَامِ الْمُبَاحِ أَنْ لَا يَتَحَيَّنَ لَهُ حَالَ ضَرُورَةٍ يَخَافُ مِنْهَا عَلَى النَّفْسِ، لَكِنِ الْوَاجِدُ يَصْطَبِحُ بِشَيْءٍ فَيَسْتَغْنِي بِهِ عَمَّا سِوَاهُ إِلَى اللَّيْلِ، يُرِيدُ بِهِ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ إِلَى حَوَائِجِهِ، فَإِذَا أَمْسَى تَنَاوَلَ مِنْهُ مَا تَرَكَهُ بِالنَّهَارِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِهِ ضَرُورَةٌ شَدِيدَةٌ، وَقَدْ يُضَمُّ إِلَيْهِ الْبَقْلُ وَغَيْرُهُ إِمَّا مُزْدَادًا مِنَ الطَّعَامِ، وَإِمَّا مُسْتَطِيبًا لَهُ وَلَيْسَ هَذَا سَبِيلَ الْمَيْتَةِ، إِنَّمَا أَذِنَ مِنْهَا فِيمَا يُمْسِكُ مِنْهُ الرَّمَقَ، وَالضَّرُورَةُ الدَّاعِيَةُ إِلَيْهَا لَا تَتَّفِقُ فِي وَقْتٍ بِعَيْنِهِ مِنْ صَبَاحٍ أَوْ مَسَاءٍ، وَلَا تُؤْكَلُ اسْتِطَابَةً فَيُضَمُّ إِلَيْهَا بَقْلٌ أَوْ نَحْوُهُ، فَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ إِذَا لَمْ يَأْكُلُوهَا كَمَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ الْمُبَاحَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِمْ فِيهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب شام کے وقت تو اپنے گھر والوں کو دودھ سے سیراب کر لے تو پھر اللہ کے حرام کردہ مردار سے بچو۔“
ابو عبداللہ حلیمی رحمہ اللہ اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ جائز کھانے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر صبح کے وقت ایسی چیز پالے جو شام تک اس کی ضروریات کو کافی ہو اور صبح کے وقت چھوڑی ہوئی چیز شام کو کھا لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر سبزی ملا کر یا کوئی دوسری چیز کے ساتھ اضافہ کرے۔ یہ مردار کی صورت میں نہیں بلکہ مردار سے جان بچانے کی مقدار کھا سکتا ہے لیکن حلال کھانوں کی مانند نہ کھائے۔
ابو عبداللہ حلیمی رحمہ اللہ اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ جائز کھانے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر صبح کے وقت ایسی چیز پالے جو شام تک اس کی ضروریات کو کافی ہو اور صبح کے وقت چھوڑی ہوئی چیز شام کو کھا لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر سبزی ملا کر یا کوئی دوسری چیز کے ساتھ اضافہ کرے۔ یہ مردار کی صورت میں نہیں بلکہ مردار سے جان بچانے کی مقدار کھا سکتا ہے لیکن حلال کھانوں کی مانند نہ کھائے۔
حدیث نمبر: 19640
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ ⦗٦٠٠⦘ الْمَيْتَةِ؟ قَالَ: " مَا طَعَامُكُمْ "؟ قُلْنَا: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ. قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ: قَدَحٌ بُكْرَةً وَقَدَحٌ عَشِيَّةً، قَالَ: " ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ ". فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْغَبُوقُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ فَقَالَ: ذَاكَ دَارُ الْجُوعِ. وَفِي هَذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُمْ تَنَاوُلَ الْمَيْتَةِ مَعَ تَنَاوُلِ مَا يُمْسِكُ الرَّمَقَ وَيُقِيمُ النَّفْسَ صَبُوحًا وَغَبُوقًا إِذَا كَانَا لَا يَغْذُوَانِ الْبَدَنَ وَلَا يُشْبِعَانِ الشِّبَعَ التَّامَّ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَفِي ثُبُوتِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ نَظَرٌ، وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَصَحُّهَا.
حافظ ثناء اللہ
فجیح عامری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”کیا مردار ہمارے لیے حلال ہے؟“ فرمایا: ”تمہارا کھانا کیا ہے؟“ ہم نے کہا: ”صبح و شام ایک ایک پیالہ پینا۔“ ابو نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس وقت نبی ﷺ نے اس حالت میں ان کے لیے مردار جائز قرار دیا، جب بھوک ختم نہ ہو۔ اتنا کھایا جائے جس سے جان بچ سکے۔ اگرچہ بدن کھانے اور پینے سے اچھی طرح سیراب نہ بھی ہو۔
حدیث نمبر: 19641
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُتْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا عَنْ شَأْنِ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ. فَقَالَ عُمَرُ: خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ يَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْمَاءَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى يَظُنُّ أَنَّ رَقَبَتَهُ سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبُهُ فَيجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ قَدْ عَوَّدَكَ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا فَادْعُ لَنَا. فَقَالَ: " أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟ " قَالَ: نَعَمْ. فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى قَالَتِ السَّمَاءُ فَأَظَلَّتْ ثُمَّ سَكَبَتْ فَمَلَؤُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْهَا جَازَتِ الْعَسْكَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ہمیں مشکل وقت کے بارے میں بیان کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم غزوہ تبوک کے لیے سخت گرم دن میں نکلے۔ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو سخت پیاس کی وجہ سے ہماری گردنیں ٹوٹنے کے قریب تھیں۔ آدمی پانی کی تلاش میں نکلتا لیکن واپسی تک گردن ٹوٹ جانے کا خطرہ ہوتا، یہاں تک کہ لوگ اونٹ ذبح کر کے اوجھڑی کا پانی نچوڑ کر پیتے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے دعائے خیر کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اثبات میں جواب دیا۔ تب نبی ﷺ نے ہاتھ اٹھا دیے تو بارش ہوئی، لوگوں نے برتن پانی کے بھر لیے اور لشکر میں کوئی پیاسا نہ تھا۔
حدیث نمبر: 19642
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: مَنِ اضْطُرَّ إِلَى الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى يَمُوتَ دَخَلَ النَّارَ. وَعَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: يَأْكُلُ مِنَ الْمَيْتَةِ مَا يُبَلِّغُهُ وَلَا يَتَضَلَّعُ مِنْهَا. قَالَ مَعْمَرٌ: وَلَمْ أَسْمَعْ فِي الْخَمْرِ رُخْصَةً.
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی جانب مجبور کیا گیا، اس نے کھایا اور پیا نہیں اور اس حالت میں فوت ہو گیا، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جان بچائے، سیر ہو کر نہ کھائے لیکن شراب کے بارے میں رخصت نہیں۔