السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يحل من الميتة بالضرورة باب: مجبوری کی حالت میں مردار میں سے کتنا کھانا حلال ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُتْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا عَنْ شَأْنِ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ. فَقَالَ عُمَرُ: خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ يَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْمَاءَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى يَظُنُّ أَنَّ رَقَبَتَهُ سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبُهُ فَيجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ قَدْ عَوَّدَكَ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا فَادْعُ لَنَا. فَقَالَ: " أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟ " قَالَ: نَعَمْ. فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى قَالَتِ السَّمَاءُ فَأَظَلَّتْ ثُمَّ سَكَبَتْ فَمَلَؤُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْهَا جَازَتِ الْعَسْكَرَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ہمیں مشکل وقت کے بارے میں بیان کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم غزوہ تبوک کے لیے سخت گرم دن میں نکلے۔ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو سخت پیاس کی وجہ سے ہماری گردنیں ٹوٹنے کے قریب تھیں۔ آدمی پانی کی تلاش میں نکلتا لیکن واپسی تک گردن ٹوٹ جانے کا خطرہ ہوتا، یہاں تک کہ لوگ اونٹ ذبح کر کے اوجھڑی کا پانی نچوڑ کر پیتے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے دعائے خیر کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اثبات میں جواب دیا۔ تب نبی ﷺ نے ہاتھ اٹھا دیے تو بارش ہوئی، لوگوں نے برتن پانی کے بھر لیے اور لشکر میں کوئی پیاسا نہ تھا۔