السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: تحريم أكل مال الغير بغير إذنه باب: کسی دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ، ثنا ⦗٦٠١⦘ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا يَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ، فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى وَفِي رِوَايَةِ الْقَعْنَبِيِّ فَيُنْتَثَلَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی کسی کے جانور بغیر اجازت کے نہ دوہے۔ کیا کوئی چاہتا ہے کہ اس کے کھانے کے برتن کو توڑ کر کھانا گرا دیا جائے؟ ان کے مویشیوں کے تھن بھی ان کے کھانے کو جمع کیے ہوئے ہیں، تو کوئی کسی کے جانور بغیر اجازت کے نہ دوہے۔“