❮
❯
حدیث نمبر: 19640
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ ⦗٦٠٠⦘ الْمَيْتَةِ؟ قَالَ: " مَا طَعَامُكُمْ "؟ قُلْنَا: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ. قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ: قَدَحٌ بُكْرَةً وَقَدَحٌ عَشِيَّةً، قَالَ: " ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ ". فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْغَبُوقُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ فَقَالَ: ذَاكَ دَارُ الْجُوعِ. وَفِي هَذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُمْ تَنَاوُلَ الْمَيْتَةِ مَعَ تَنَاوُلِ مَا يُمْسِكُ الرَّمَقَ وَيُقِيمُ النَّفْسَ صَبُوحًا وَغَبُوقًا إِذَا كَانَا لَا يَغْذُوَانِ الْبَدَنَ وَلَا يُشْبِعَانِ الشِّبَعَ التَّامَّ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَفِي ثُبُوتِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ نَظَرٌ، وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَصَحُّهَا.
حافظ ثناء اللہ

فجیح عامری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟“ فرمایا: ”تمہارا کھانا کیا ہے؟“ ہم نے کہا: ”صبح و شام ایک ایک پیالہ پینا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے باپ کی قسم! یہ تو بھوک ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس حالت میں ان کے لیے مردار جائز قرار دیا۔ اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں صبح و شام اتنے کھانے پینے کے ساتھ مردار کھانے کی اجازت دی جس سے جان بچ سکے، جبکہ وہ بدن کو غذا نہ دے اور اچھی طرح سیر نہ کرے۔
ان احادیث کے ثابت ہونے میں نظر ہے، اور ان میں سب سے زیادہ صحیح سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19640
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»