السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرجل يشتري أضحية فتموت أو تسرق أو تضل باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا جانور خریدے، پھر وہ مر جائے، یا چوری ہو جائے، یا گم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 19198
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَاقَتْ بَدَنَتَيْنِ فَضَلَّتَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَدَنَتَيْنِ مَكَانَهُمَا، فَنَحَرَتْهُمَا ثُمَّ وَجَدَتِ الْأُولَيَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا أَيْضًا، ثُمَّ قَالَتْ: هَكَذَا السُّنَّةُ فِي الْبُدْنِ..حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قربانی کے دو اونٹ روانہ کیے جو گم ہو گئے، تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی جگہ دو اونٹ بھیج دیے جنہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نحر کروا دیا۔ پھر پہلے والے دونوں اونٹ بھی مل گئے تو انہیں بھی نحر کروا دیا۔ پھر فرمایا: قربانی کے اونٹوں میں یہی سنت ہے۔