السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرجل يشتري أضحية فتموت أو تسرق أو تضل باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا جانور خریدے، پھر وہ مر جائے، یا چوری ہو جائے، یا گم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 19197
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حُوَيَصٍ يَعْنِي الْمِصْرِيَّ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ شَاةً بِمِنًى أُضْحِيَّةً فَضَلَّتْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَكِنَّهُ إِنْ وَجَدَهَا بَعْدَ مَا أَوْجَبَهَا ذَبَحَهَا وَإِنْ مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ كَمَا يَصْنَعُ فِي الْبُدْنِ مِنَ الْهَدْيِ.حافظ ثناء اللہ
تمیم بن حویص مصری فرماتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں قربانی کے لیے ایک بکری خریدی جو گم ہو گئی۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ کو کوئی نقصان نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیکن اگر اسے (قربانی کے لیے) واجب کر لینے کے بعد وہ مل جائے تو اسے ذبح کر دے، اگرچہ قربانی کے دن گزر چکے ہوں، جیسا کہ ہدی کے اونٹوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔