السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرجل يشتري أضحية فتموت أو تسرق أو تضل باب: اس شخص کا بیان جو قربانی کا جانور خریدے، پھر وہ مر جائے، یا چوری ہو جائے، یا گم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 19196
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: ⦗٤٨٧⦘ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَهْدَى هَدِيَّةً فَضَلَّتْ فَإِنْ كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا، وَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا. هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کی بھیجی ہوئی قربانی (ہدی) گم ہو جائے، اگر وہ نذر کا جانور تھا تو اسے تبدیل کرے، اور اگر نفلی قربانی تھی تو اسے اختیار ہے، چاہے تو بدل لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
عبداللہ بن عامر اسلمی نے اسے نافع سے مرفوعاً روایت کیا ہے، لیکن درست یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔