السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
حدیث نمبر: 19187
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شَرِيبٍ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ النَّحْرِ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ مُحَمَّدٍ لَكَ. ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَتَصَدَّقَ بِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكَبْشٍ آخَرَ فَذَبَحَهُ فَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، وَمِنْ عَلِيٍّ لَكَ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِطَابِقٍ مِنْهُ وَتَصَدَّقْ بِسَائِرِهِ.حافظ ثناء اللہ
حنش بن حارث فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ایک مینڈھا رسول اللہ ﷺ اور ایک اپنی جانب سے قربانی کرتے تھے۔ ہم نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے قربانی کرتے ہیں؟ فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ مجھے اپنی جانب سے قربانی کرنے کا حکم دیا تھا۔“ اس لیے میں آپ ﷺ کی جانب سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔ وہ شخص جو فوت ہو جائے، اس کی جانب سے قربانی کرنا جائز ہے لیکن حاملہ جانور کی قربانی نہ کی جائے۔