❮
❯
حدیث نمبر: 19187
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شَرِيبٍ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ النَّحْرِ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ مُحَمَّدٍ لَكَ. ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَتَصَدَّقَ بِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكَبْشٍ آخَرَ فَذَبَحَهُ فَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، وَمِنْ عَلِيٍّ لَكَ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِطَابِقٍ مِنْهُ وَتَصَدَّقْ بِسَائِرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عاصم بن شریب فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی کے دن ایک مینڈھا لایا گیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ مُحَمَّدٍ لَكَ» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، اور محمد کی جانب سے تیرے لیے ہے۔“ پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے صدقہ کر دیا گیا۔ پھر دوسرا مینڈھا لایا گیا تو اسے ذبح کیا اور کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ عَلِيٍّ لَكَ» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، اور علی کی جانب سے تیرے لیے ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے کہا: اس میں سے ایک ٹکڑا میرے پاس لاؤ اور باقی صدقہ کر دو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19187
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»