السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شَرِيبٍ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ النَّحْرِ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ مُحَمَّدٍ لَكَ. ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَتَصَدَّقَ بِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكَبْشٍ آخَرَ فَذَبَحَهُ فَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، وَمِنْ عَلِيٍّ لَكَ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِطَابِقٍ مِنْهُ وَتَصَدَّقْ بِسَائِرِهِ.عاصم بن شریب فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی کے دن ایک مینڈھا لایا گیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ مُحَمَّدٍ لَكَ» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، اور محمد کی جانب سے تیرے لیے ہے۔“ پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے صدقہ کر دیا گیا۔ پھر دوسرا مینڈھا لایا گیا تو اسے ذبح کیا اور کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ عَلِيٍّ لَكَ» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، اور علی کی جانب سے تیرے لیے ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے کہا: اس میں سے ایک ٹکڑا میرے پاس لاؤ اور باقی صدقہ کر دو۔