السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُلْتُ لَهُ: قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ لَكُمْ فِيهَا ⦗٤٨٤⦘ خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ} [الحج: ٣٦] قَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْحَرَ الْبَدَنَةَ فَأَقِمْهَا ثُمَّ قُلِ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، ثُمَّ سَمِّ، ثُمَّ انْحَرْهَا. قَالَ: قُلْتُ: وَأَقُولُ ذَلِكَ فِي الْأُضْحِيَّةِ؟ قَالَ: وَالْأُضْحِيَّةُ.ابو ظبیان حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا: ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾ [سورة الحج: 36] ”اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے، ان میں تمہارے لیے بھلائی ہے، تو انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو۔“ فرمایا: جب تم اونٹ کو نحر کرنا چاہو تو اسے کھڑا کرو، پھر کہو: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے“، پھر اللہ کا نام لو، پھر اسے نحر کر دو۔ میں نے پوچھا: کیا قربانی (اضحیہ) میں بھی یہی کہوں؟ فرمایا: قربانی میں بھی۔