السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِكَبْشٍ عَنْ نَفْسِهِ، قُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ تُضَحِّي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ أَبَدًا؛ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بِإِسْنَادِهِ وَهُوَ إِنْ ثَبَتَ يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ التَّضْحِيَةِ عَمَّنْ خَرَجَ مِنْ دَارِ الدُّنْيَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا عَنِ الْحَمْلِ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يُضَحَّى عَمَّا فِي الْبَطْنِ.حنش بن حارث فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ایک مینڈھا رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اور ایک اپنی جانب سے قربانی کرتے تھے۔ ہم نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے قربانی کرتے ہیں؟ فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے ہمیشہ اپنی جانب سے قربانی کرنے کا حکم دیا تھا، اس لیے میں آپ ﷺ کی جانب سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔“
اس سند کے ساتھ اسے صرف شریک بن عبداللہ نے روایت کیا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا سے رخصت ہو جانے والے مسلمانوں کی جانب سے قربانی کرنا جائز ہے۔ رہا پیٹ کے بچے کی جانب سے قربانی کرنا، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو پیٹ میں ہو اس کی جانب سے قربانی نہیں کی جائے گی۔