کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
حدیث نمبر: 19181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ السَّعْدِيُّ، وَهُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ: سُلَيْمَانُ بْنُ عِيسَى الَّذِي يَرْوِي آدَابَ سُفْيَانَ كَذَّابٌ مُصَرِّحٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیاہ پاؤں، سیاہ پیٹ اور سیاہ آنکھوں والا مینڈھا قربان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! چھری پتھر پر تیز کر کے لاؤ۔“ میں نے چھری تیز کر دی تو آپ ﷺ نے مینڈھے کو پکڑ کر ذبح کرنے لگے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» ”اے اللہ! محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد کی جانب سے قبول فرما۔“ پھر اسے ذبح کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19181
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 19182
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ⦗٤٨٢⦘ قَالَ: قَالَ حَيْوَةُ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، قَالَ: " يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ: " بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ". ثُمَّ ضَحَّى بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید الاضحی کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھا، تو نبی ﷺ نے خطبے سے فراغت کے بعد مینڈھا قربان کیا، «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا اور فرمایا: ”یہ میری اور میری امت کی جانب سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19182
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
حدیث نمبر: 19183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْقَطَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُ أَضْحًى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ وَنَزَلَ عَنْ مِنْبَرِهِ أُتِيَ بِكَبْشِهِ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: " بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عیاش، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دو چتکبرے، سینگوں والے خصی مینڈھے ذبح کیے۔ جب ان کو قبلہ رخ کیا تو فرمایا: ”میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی جانب متوجہ کرلیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا ملت ابراہیم پر اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79]، یقیناً میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کا میں حکم دیا گیا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے راستہ میں محمد ﷺ اور ان کی امت کی جانب سے۔ «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ»“ «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”بسم اللہ واللہ اکبر“ پڑھ کر ذبح کردیے۔
(ب) وہبی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید کے دن دو مینڈھے ذبح فرمائے اور انھیں قبلہ رخ لٹا کر یہ دعا پڑھی: ”اے اللہ یہ تیری عطا ہے اور تیرے راستہ میں محمد ﷺ اور ان کی امت کی جانب سے ہے «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ»“ اور «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”بسم اللہ واللہ اکبر“ پڑھ کر ذبح کردیے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نبی ﷺ سے منقول ہے، لیکن اس طرح ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے دو مینڈھے ذبح کیے۔ ان میں سے ایک میں ہے کہ اللہ کے ذکر کے بعد فرمایا: ”اے اللہ! محمد ﷺ اور امتِ محمد کی جانب سے“ اور اس کے آخر میں ہے کہ ”اے اللہ! محمد ﷺ اور امتِ محمد کی جانب سے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19183
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم برقم ١٩٠٣٣»
حدیث نمبر: 19184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ثنا عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: " {إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ}، عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ ". ثُمَّ ذَبَحَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. لَفْظُ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَفِي رِوَايَةِ الْوَهْبِيِّ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبْشَيْنِ يَوْمَ الْعِيدِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: فَذَكَرَ الدُّعَاءَ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ ". وَسَمَّى وَذَبَحَ. وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَجَّهَهُمَا إِلَى الْقِبْلَةِ حِينَ ذَبَحَ، ⦗٤٨٣⦘ وَقِيلَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجْهٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ فِي أَحَدِهِمَا بَعْدَ ذِكْرِ اللهِ: " اللهُمَّ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ "، وَفِي الْآخَرِ: " اللهُمَّ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّةِ مُحَمَّدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو سینگوں والے، خصی مینڈھے ذبح کیے تو ایک کو ذبح کرتے وقت فرمایا: ”«بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“، اے اللہ! یہ تیری ہی عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے، محمد اور امتِ محمد کی جانب سے ہے اور اس کی جانب سے جس نے توحید کا اقرار کیا اور میرے دین پہنچانے کی گواہی دی۔“ اور دوسرے کو ذبح کرتے ہوئے فرمایا: ”«بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“، اے اللہ! یہ تیری ہی عطا ہے، تیرے ہی راستہ میں محمد اور آلِ محمد ﷺ کی جانب سے ہے۔“
(ب) ابنِ عبدان کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے قربانی کے لیے دو موٹے تازے، سینگوں والے، خصی جانور قربان کیے۔ ایک تو اپنی امت، توحید کا اقرار کرنے والوں اور دین کو پہنچانے کی گواہی دینے والوں کی جانب سے، جبکہ دوسری قربانی محمد اور آلِ محمد ﷺ کی جانب سے تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19184
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 19185
قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ سَوَادَةَ، ثنا أَبُو حَازِمٍ الْحُسَيْنُ بْنُ دِينَارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَيَبْدَأُ بِأَحَدِهِمَا فَيَقُولُ: " بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ "، وَيَذْبَحُ الْآخَرَ وَيَقُولُ: " بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بِشْرَانَ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مَنْ شَهِدَ لَهُ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَالْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ. هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَعَلَّهُ سَمِعَ مِنْ هَؤُلَاءِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِيمَا ذَكَرْنَا قَبْلَ حَدِيثِهِ كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ظبیان حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے اللہ کے اس قول کے بارے میں پوچھا ﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ﴾ [سورة الحج: 36] فرماتے ہیں: آپ قربانی کو کھڑا کر کے نحر کریں پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ کہیں کہ «اللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”اے اللہ! تیری طرف سے تھی اور تیرے راستہ میں ہے“، پھر تکبیر پڑھ کر نحر کر دو۔ میں نے پوچھا: یہ قربانی کے بارے میں ہے۔ فرمایا: ہاں، قربانی کے بارے میں ہی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19185
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم برقم ١٤٠٠٩»
حدیث نمبر: 19186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُلْتُ لَهُ: قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ لَكُمْ فِيهَا ⦗٤٨٤⦘ خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ} [الحج: ٣٦] قَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْحَرَ الْبَدَنَةَ فَأَقِمْهَا ثُمَّ قُلِ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، ثُمَّ سَمِّ، ثُمَّ انْحَرْهَا. قَالَ: قُلْتُ: وَأَقُولُ ذَلِكَ فِي الْأُضْحِيَّةِ؟ قَالَ: وَالْأُضْحِيَّةُ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن شُرَیب فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی کے دن مینڈھا لایا گیا۔ ذبح کرتے وقت انہوں نے یہ کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ ﷺ» ”میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اے اللہ! یہ تیری عطا اور تیرے راستہ میں ہے اور محمد ﷺ کی طرف سے ہے۔“ پھر قربانی کے گوشت کو صدقہ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ پھر دوسرا مینڈھا لایا گیا تو ذبح کرتے وقت یہ کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ عَلِيٍّ» ”میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے۔ اے اللہ! یہ تیری عطا، تیرے راستہ میں اور علی کی جانب سے ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک تھال میں گوشت ڈال کر میرے پاس لاؤ اور باقی صدقہ کر دو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19186
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 19187
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شَرِيبٍ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ النَّحْرِ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ وَمِنْ مُحَمَّدٍ لَكَ. ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَتَصَدَّقَ بِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكَبْشٍ آخَرَ فَذَبَحَهُ فَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، وَمِنْ عَلِيٍّ لَكَ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِطَابِقٍ مِنْهُ وَتَصَدَّقْ بِسَائِرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حنش بن حارث فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ایک مینڈھا رسول اللہ ﷺ اور ایک اپنی جانب سے قربانی کرتے تھے۔ ہم نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے قربانی کرتے ہیں؟ فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ مجھے اپنی جانب سے قربانی کرنے کا حکم دیا تھا۔“ اس لیے میں آپ ﷺ کی جانب سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔ وہ شخص جو فوت ہو جائے، اس کی جانب سے قربانی کرنا جائز ہے لیکن حاملہ جانور کی قربانی نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19187
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 19188
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِكَبْشٍ عَنْ نَفْسِهِ، قُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ تُضَحِّي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ أَبَدًا؛ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بِإِسْنَادِهِ وَهُوَ إِنْ ثَبَتَ يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ التَّضْحِيَةِ عَمَّنْ خَرَجَ مِنْ دَارِ الدُّنْيَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا عَنِ الْحَمْلِ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يُضَحَّى عَمَّا فِي الْبَطْنِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عورت کے جنین کی جانب سے قربانی نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19188
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»