السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
حدیث نمبر: 19183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْقَطَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُ أَضْحًى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ وَنَزَلَ عَنْ مِنْبَرِهِ أُتِيَ بِكَبْشِهِ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: " بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عید الاضحی کے موقع پر عید گاہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھا، جب آپ ﷺ خطبہ سے فارغ ہو کر منبر سے اترے تو آپ ﷺ کا مینڈھا لایا گیا، آپ ﷺ نے اسے ذبح کیا اور فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“، ”یہ میری جانب سے اور میری امت کے ان لوگوں کی جانب سے ہے جنہوں نے قربانی نہیں کی۔“