حدیث نمبر: 19183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْقَطَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُ أَضْحًى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ وَنَزَلَ عَنْ مِنْبَرِهِ أُتِيَ بِكَبْشِهِ فَذَبَحَهُ وَقَالَ: " بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي ".
حافظ ثناء اللہ

ابو عیاش، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دو چتکبرے، سینگوں والے خصی مینڈھے ذبح کیے۔ جب ان کو قبلہ رخ کیا تو فرمایا: ”میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی جانب متوجہ کرلیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا ملت ابراہیم پر اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79]، یقیناً میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کا میں حکم دیا گیا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے راستہ میں محمد ﷺ اور ان کی امت کی جانب سے۔ «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ»“ «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”بسم اللہ واللہ اکبر“ پڑھ کر ذبح کردیے۔
(ب) وہبی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید کے دن دو مینڈھے ذبح فرمائے اور انھیں قبلہ رخ لٹا کر یہ دعا پڑھی: ”اے اللہ یہ تیری عطا ہے اور تیرے راستہ میں محمد ﷺ اور ان کی امت کی جانب سے ہے «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ»“ اور «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”بسم اللہ واللہ اکبر“ پڑھ کر ذبح کردیے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ نبی ﷺ سے منقول ہے، لیکن اس طرح ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے دو مینڈھے ذبح کیے۔ ان میں سے ایک میں ہے کہ اللہ کے ذکر کے بعد فرمایا: ”اے اللہ! محمد ﷺ اور امتِ محمد کی جانب سے“ اور اس کے آخر میں ہے کہ ”اے اللہ! محمد ﷺ اور امتِ محمد کی جانب سے ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19183
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم برقم ١٩٠٣٣»