السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
حدیث نمبر: 19182
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ⦗٤٨٢⦘ قَالَ: قَالَ حَيْوَةُ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، قَالَ: " يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ ". فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ: " بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ". ثُمَّ ضَحَّى بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیاہ پاؤں، سیاہ پیٹ اور سیاہ آنکھوں والا سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا، وہ قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! چھری لاؤ اور اسے پتھر پر تیز کرو۔“ میں نے ایسا ہی کیا، پھر آپ ﷺ نے چھری لی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے لگے، پھر فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد کی جانب سے قبول فرما۔“ پھر اس کی قربانی کر دی۔