السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ثنا عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: " {إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ}، عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ ". ثُمَّ ذَبَحَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. لَفْظُ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَفِي رِوَايَةِ الْوَهْبِيِّ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبْشَيْنِ يَوْمَ الْعِيدِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: فَذَكَرَ الدُّعَاءَ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ ". وَسَمَّى وَذَبَحَ. وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَجَّهَهُمَا إِلَى الْقِبْلَةِ حِينَ ذَبَحَ، ⦗٤٨٣⦘ وَقِيلَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجْهٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ فِي أَحَدِهِمَا بَعْدَ ذِكْرِ اللهِ: " اللهُمَّ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ "، وَفِي الْآخَرِ: " اللهُمَّ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّةِ مُحَمَّدٍ ".حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو سینگوں والے، خصی مینڈھے ذبح کیے تو ایک کو ذبح کرتے وقت فرمایا: ”«بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“، اے اللہ! یہ تیری ہی عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے، محمد اور امتِ محمد کی جانب سے ہے اور اس کی جانب سے جس نے توحید کا اقرار کیا اور میرے دین پہنچانے کی گواہی دی۔“ اور دوسرے کو ذبح کرتے ہوئے فرمایا: ”«بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“، اے اللہ! یہ تیری ہی عطا ہے، تیرے ہی راستہ میں محمد اور آلِ محمد ﷺ کی جانب سے ہے۔“
(ب) ابنِ عبدان کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے قربانی کے لیے دو موٹے تازے، سینگوں والے، خصی جانور قربان کیے۔ ایک تو اپنی امت، توحید کا اقرار کرنے والوں اور دین کو پہنچانے کی گواہی دینے والوں کی جانب سے، جبکہ دوسری قربانی محمد اور آلِ محمد ﷺ کی جانب سے تھی۔