السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
حدیث نمبر: 19181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ السَّعْدِيُّ، وَهُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ: سُلَيْمَانُ بْنُ عِيسَى الَّذِي يَرْوِي آدَابَ سُفْيَانَ كَذَّابٌ مُصَرِّحٌ.حافظ ثناء اللہ
سعدی یعنی ابراہیم بن یعقوب جوزجانی کہتے ہیں: سلیمان بن عیسیٰ جو سفیان کے آداب روایت کرتا ہے، کھلا جھوٹا ہے۔