السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
حدیث نمبر: 19181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ السَّعْدِيُّ، وَهُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ: سُلَيْمَانُ بْنُ عِيسَى الَّذِي يَرْوِي آدَابَ سُفْيَانَ كَذَّابٌ مُصَرِّحٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیاہ پاؤں، سیاہ پیٹ اور سیاہ آنکھوں والا مینڈھا قربان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! چھری پتھر پر تیز کر کے لاؤ۔“ میں نے چھری تیز کر دی تو آپ ﷺ نے مینڈھے کو پکڑ کر ذبح کرنے لگے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» ”اے اللہ! محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد کی جانب سے قبول فرما۔“ پھر اسے ذبح کر دیا۔