حدیث نمبر: 19142
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّ شَفْرَةً وَأَخَذَ شَاةً لِيَذْبَحَهَا، فَضَرَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّرَّةِ وَقَالَ: أَتُعَذِّبُ الرُّوحَ؟ أَلَا فَعَلْتَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْخُذَهَا.
حافظ ثناء اللہ

عاصم بن عبید اللہ بن عاصم بن عمر بن خطاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بکری کو ذبح کرنے کے لیے پکڑا اور ساتھ ہی چھری تیز کرنے لگا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور فرمایا: کیا تو روح کو عذاب دیتا ہے؟ تو نے اس کو پکڑنے سے پہلے ہی یہ کام کیوں نہ کر لیا؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19142
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»