السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الذكاة بالحديد وبما يكون أخف على المذكي وما يستحب من حد الشفار ومواراته عن البهيمة وإراحتها باب: لوہے اور اس چیز سے ذبح کرنے کا بیان جو ذبح ہونے والے جانور کے لیے زیادہ آسان ہو، نیز چھریوں کو تیز کرنے، اسے جانور سے چھپانے اور جانور کو آرام پہنچانے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19143
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى رَجُلًا يَجُرُّ شَاةً لِيَذْبَحَهَا، فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ، وَقَالَ: سُقْهَا لَا أُمَّ لَكَ إِلَى الْمَوْتِ سَوْقًا جَمِيلًا.حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ بکری کو کھینچ کر ذبح کرنے کے لیے لا رہا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور فرمایا کہ اس کو موت کے گھاٹ احسن انداز سے اتارو۔