حدیث نمبر: 19141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَاضِعٍ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَةِ شَاةٍ وَهُوَ يُحِدُّ شَفْرَتَهُ وَهِيَ تَلْحَظُ إِلَيْهِ بِبَصَرِهَا، فَقَالَ: " أَفَلَا قَبْلَ هَذَا؟ أَتُرِيدُ أَنْ تُمِيتَهَا مَوْتًا ". تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ: " أَتُرِيدُ أَنْ تُمِيتَهَا مَوْتَاتٍ ". وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ فَأَرْسَلَهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو بکری کی گردن پر اپنا پاؤں رکھ کر اس کے سامنے چھری تیز کر رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے پہلے یہ کام کیوں نہ کیا؟ کیا تم ذبح سے پہلے اس کو مارنا چاہتے ہو؟“
(ب) حماد بن زید، عاصم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو دو مرتبہ اس کو مارے گا؟“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19141
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»