السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الذكاة بالحديد وبما يكون أخف على المذكي وما يستحب من حد الشفار ومواراته عن البهيمة وإراحتها باب: لوہے اور اس چیز سے ذبح کرنے کا بیان جو ذبح ہونے والے جانور کے لیے زیادہ آسان ہو، نیز چھریوں کو تیز کرنے، اسے جانور سے چھپانے اور جانور کو آرام پہنچانے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19140
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِّ الشِّفَارِ، وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ وَقَالَ: " إِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھری کو تیز کرنے اور جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا ہے۔ ”جب تم ذبح کرو تو جلدی کرلیا کرو۔“