السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: سنة لمن أراد أن يضحي أن لا يأخذ من شعره ولا من ظفره إذا أهل هلال ذي الحجة حتى يضحي باب: جو شخص قربانی کا ارادہ رکھے اس کے لیے سنت یہ ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
حدیث نمبر: 19041
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، ثنا الْقَاضِي أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا بَشَرِهِ شَيْئًا ". قِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ، قَالَ: لَكِنِّي أَرْفَعُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عشرہ ذی الحج شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو وہ اپنے جسم کے کسی حصے سے بال نہ کاٹے۔“ سفیان سے کہا گیا کہ بعض لوگ اس حدیث کو مرفوع بیان نہیں کرتے، کہتے ہیں لیکن میں اس کو مرفوع بیان کرتا ہوں۔