السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما لفظ البحر وطفا من ميتة باب: اس مردار کا بیان جسے سمندر باہر پھینک دے یا جو پانی پر تیرنے لگے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنَ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى ⦗٤٢٨⦘ إِذَا كُنْتُ بِالرَّبَذَةِ سَأَلَنِي نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ عَنْ صَيْدٍ وَجَدُوهُ عَلَى الْمَاءِ طَافٍ، فَسَأَلُونِي عَنِ اشْتِرَائِهِ وَأَكْلِهِ، فَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يَشْتَرُوهُ وَيَأْكُلُوهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَكَأَنَّهُ وَقَعَ فِي قَلْبِي شَكٌّ مِمَّا أَمَرْتُهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَمَا أَمَرْتَهُمْ بِهِ؟ قَالَ: أَمَرْتُهُمْ بِهِ أَنْ يَشْتَرُوهُ وَيَأْكُلُوهُ. قَالَ: لَوْ أَمَرْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَفَعَلْتُ. أَيْ كَأَنَّهُ تَوَعَّدَهُ.حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بحرین سے آیا تو ربذہ نامی جگہ پر عراق کے محرم لوگوں نے پانی پر تیر کر آنے والے شکار کے بارے میں مجھ سے پوچھا، وہ اس کے خریدنے اور کھانے کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو میں نے حالتِ احرام میں ان کو یہ شکار خرید کر کھانے کی اجازت دے دی۔ پھر میں مدینہ آیا تو اس مسئلے کے بارے میں میرے دل میں شک تھا جو میں نے ان کو حکم دیا تھا، تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے پوچھا: آپ نے اس کے بارے میں ان کو کیا حکم دیا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انہیں خرید کر کھانے کی اجازت دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتا تو میں یہ کرتا، گویا کہ وہ ان کو دھمکی دے رہے تھے۔