حدیث نمبر: 18982
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ الْبَحْرَيْنَ فَسَأَلَنِي أَهْلُ الْبَحْرَيْنِ عَمَّا يَقْذِفُ الْبَحْرُ مِنَ السَّمَكِ فَأَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: مَا أَمَرْتَهُمْ؟ قُلْتُ: أَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ. فَقَالَ: لَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَعَلَوْتُكَ بِالدِّرَّةِ. ثُمَّ قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ} [المائدة: ٩٦]، قَالَ: صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا رَمَى بِهِ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بحرین آیا تو وہاں کے لوگوں نے سمندر کی باہر پھینکی ہوئی مچھلی کے بارے میں مجھ سے پوچھا تو میں نے انہیں اسے کھانے کا حکم دیا۔ پھر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم نے انہیں کیا حکم دیا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انہیں اسے کھانے کا کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کہتے تو میں تمہیں درے مارتا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 96] جو اس سے شکار کیا جائے اور جس کو یہ باہر پھینک دے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18982
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»