السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما لفظ البحر وطفا من ميتة باب: اس مردار کا بیان جسے سمندر باہر پھینک دے یا جو پانی پر تیرنے لگے۔
حدیث نمبر: 18984
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ} [المائدة: ٩٦]، قَالَ: صَيْدُهُ مَا صِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا قَذَفَ.حافظ ثناء اللہ
ابو مجلز، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 96] ”سمندر کا شکار تمہارے لیے حلال کر دیا گیا اور اس کا کھانا تمہارے لیے فائدے کی چیز ہے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا شکار تو وہی ہے جو شکار کیا گیا اور کھانے سے مراد وہ ہے جو وہ باہر پھینک دے۔