کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس مردار کا بیان جسے سمندر باہر پھینک دے یا جو پانی پر تیرنے لگے۔
حدیث نمبر: 18972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالَوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: غَزَوْنَا فَجُعْنَا حَتَّى إِنَّ الْجَيْشَ يَقْتَسِمُ التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ إِذْ رَمَى بِحُوتٍ مَيْتٍ فَاقْتَطَعَ النَّاسُ مِنْهُ مَا شَاءُوا مِنْ لَحْمِهِ أَوْ شَحْمِهِ وَهُوَ مِثْلُ الظَّرِبِ، فَبَلَغَنِي أَنَّ النَّاسَ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ فَقَالَ لَهُمْ: " أَمَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ "؟.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم جہاد کے لیے نکلے تو سخت بھوک محسوس ہوئی، یہاں تک کہ لشکر میں ایک یا دو دو کھجوریں تقسیم کی جاتیں۔ اس دوران ہم سمندر کے کنارے پر تھے۔ جب سمندر نے مردہ مچھلی باہر پھینک دی تو لوگوں نے اس کا گوشت یا چربی جتنا چاہا کاٹ لیا۔ وہ مچھلی ایک ٹیلے کی مانند تھی۔ مجھے پتا چلا کہ لوگوں نے جب آ کر رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ موجود ہے؟“
حدیث نمبر: 18973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرٌو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِمِائَةِ رَاكِبٍ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ يَطْلُبُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى فَنِيَ زَادُنَا فَأَكَلْنَا الْخَبَطَ، ثُمَّ إِنَّ الْبَحْرَ أَلْقَى لَنَا دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ حَتَّى صَلُحَتْ أَجْسَامُنَا، وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ وَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ بَعِيرٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ رَجُلٍ فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ فَجَازَ تَحْتَهُ، وَقَدْ كَانَ رَجُلٌ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ. وَكَانَ يَرْوِيهِ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قریشی قافلے کی تلاش میں ہمارے تین سو آدمیوں کے قافلے کا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا۔ ہم نے ساحلِ سمندر پر قیام کیا یہاں تک کہ ہمارا زادِ راہ ختم ہو گیا جس کی بنا پر ہم نے درختوں کے پتے کھائے۔ پھر سمندر نے «العَنْبَرُ» ”عنبر“ نامی مچھلی باہر پھینکی تو ہم نے پندرہ روز تک مچھلی کا گوشت کھایا۔ ہمارے جسم تندرست ہو گئے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کو کھڑا کیا اور لشکر میں سے بڑے اونٹ اور لمبے آدمی کو اس پر سوار کر کے اس کے نیچے سے گزار دیا۔ ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کیے، پھر دوسرے دن بھی۔ اس کے بعد ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خیال ہے کہ وہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 18974
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح ⦗٤٢٦⦘ قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " السَّمَكَةُ الطَّافِيَةُ حَلَالٌ لِمَنْ أَرَادَ أَكْلَهَا "..
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسی مچھلی جو مرنے کے بعد پانی پر تیر آتی ہے، وہ اس کے لیے حلال ہے جو کھانا چاہے۔
حدیث نمبر: 18975
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا قَالَ: " السَّمَكَةُ الطَّافِيَةُ عَلَى الْمَاءِ حَلَالٌ ".
حافظ ثناء اللہ
وکیع رحمہ اللہ سفیان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد پانی کے اوپر تیر آنے والی مچھلی حلال ہے۔
حدیث نمبر: 18976
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ بِنِيسَابُورَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْجَرَادُ وَالنُّونُ ذَكِيٌّ كُلُّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
جابر بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹڈی اور مچھلی تمام ذبح کی ہوئی ہیں۔
حدیث نمبر: 18977
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْحِيتَانُ وَالْجَرَادُ ذَكِيٌّ كُلُّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مچھلیاں اور ٹڈی ذبح کی ہوئی ہیں۔“
حدیث نمبر: 18978
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَكِبَ فِي الْبَحْرِ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَوَجَدُوا سَمَكَةً طَافِيَةً عَلَى الْمَاءِ فَسَأَلُوهُ عَنْهَا، فَقَالَ: أَطَيِّبَةٌ هِيَ لَمْ تَغَيَّرْ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَكُلُوهَا وَارْفَعُوا نَصِيبِي مِنْهَا، وَكَانَ صَائِمًا. هَكَذَا رَوَاهُ زَاهِرٌ، وَرَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، وَهُوَ ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ فَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ رِوَايَةُ زَاهِرٍ أَصَحَّ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرَوَاهُ أَيْضًا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَيُذْكَرُ عَنْ مَرِّيخٍ وَبِشْرٍ ابْنَيِ الْخَوْلَانِيِّ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ وَأَبَا صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَكَلَا الطَّافِيَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ سمندری سفر کیا تو ایک مچھلی کو مردہ حالت میں پانی پر تیرتے پایا تو انہوں نے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: کیا وہ پاکیزہ ہے، اس کی بو تبدیل نہیں ہوئی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے فرمایا: کھاؤ اور میرا حصہ بھی رکھنا کیونکہ وہ (سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ) روزہ دار تھے۔
حدیث نمبر: 18979
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَجْلَحَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَا بَأْسَ بِالطَّافِي مِنَ السَّمَكِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد مچھلی کا پانی پر تیر آنا، اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 18980
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا " كَانَا لَا يَرَيَانِ بِأَكْلِ مَا لَفَظَ الْبَحْرُ بَأْسًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کا خیال ہے کہ جس کو سمندر باہر پھینکے اس مچھلی کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 18981
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ثُوَيْبٍ، قَالَ: رَمَى الْبَحْرُ بِسَمَكٍ كَبِيرٍ مَيِّتٍ فَأَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَفْتَيْنَاهُ فَأَمَرَنَا بِأَكْلِهِ، فَرَغِبْنَا عَنْ فُتْيَا أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَتَيْنَا مَرْوَانَ فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: حَلَالٌ فَكُلُوهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ ثویب سے نقل فرماتے ہیں کہ سمندر نے بہت ساری مچھلیاں باہر پھینک دیں، تو ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے بارے میں فتویٰ پوچھا۔ انہوں نے کھانے کی اجازت دے دی۔ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فتویٰ سے بے رغبتی کرتے ہوئے مروان کے پاس آئے، تو انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: حلال ہیں، تم کھا سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 18982
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ الْبَحْرَيْنَ فَسَأَلَنِي أَهْلُ الْبَحْرَيْنِ عَمَّا يَقْذِفُ الْبَحْرُ مِنَ السَّمَكِ فَأَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: مَا أَمَرْتَهُمْ؟ قُلْتُ: أَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ. فَقَالَ: لَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَعَلَوْتُكَ بِالدِّرَّةِ. ثُمَّ قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ} [المائدة: ٩٦]، قَالَ: صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا رَمَى بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بحرین آیا تو وہاں کے لوگوں نے سمندر کی باہر پھینکی ہوئی مچھلی کے بارے میں مجھ سے پوچھا تو میں نے انہیں اسے کھانے کا حکم دیا۔ پھر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم نے انہیں کیا حکم دیا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انہیں اسے کھانے کا کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کہتے تو میں تمہیں درے مارتا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 96] جو اس سے شکار کیا جائے اور جس کو یہ باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 18983
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنَ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى ⦗٤٢٨⦘ إِذَا كُنْتُ بِالرَّبَذَةِ سَأَلَنِي نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ عَنْ صَيْدٍ وَجَدُوهُ عَلَى الْمَاءِ طَافٍ، فَسَأَلُونِي عَنِ اشْتِرَائِهِ وَأَكْلِهِ، فَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يَشْتَرُوهُ وَيَأْكُلُوهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَكَأَنَّهُ وَقَعَ فِي قَلْبِي شَكٌّ مِمَّا أَمَرْتُهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَمَا أَمَرْتَهُمْ بِهِ؟ قَالَ: أَمَرْتُهُمْ بِهِ أَنْ يَشْتَرُوهُ وَيَأْكُلُوهُ. قَالَ: لَوْ أَمَرْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَفَعَلْتُ. أَيْ كَأَنَّهُ تَوَعَّدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بحرین سے آیا تو ربذہ نامی جگہ پر عراق کے محرم لوگوں نے پانی پر تیر کر آنے والے شکار کے بارے میں مجھ سے پوچھا، وہ اس کے خریدنے اور کھانے کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو میں نے حالتِ احرام میں ان کو یہ شکار خرید کر کھانے کی اجازت دے دی۔ پھر میں مدینہ آیا تو اس مسئلے کے بارے میں میرے دل میں شک تھا جو میں نے ان کو حکم دیا تھا، تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے پوچھا: آپ نے اس کے بارے میں ان کو کیا حکم دیا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انہیں خرید کر کھانے کی اجازت دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتا تو میں یہ کرتا، گویا کہ وہ ان کو دھمکی دے رہے تھے۔
حدیث نمبر: 18984
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ} [المائدة: ٩٦]، قَالَ: صَيْدُهُ مَا صِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا قَذَفَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو مجلز، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 96] ”سمندر کا شکار تمہارے لیے حلال کر دیا گیا اور اس کا کھانا تمہارے لیے فائدے کی چیز ہے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا شکار تو وہی ہے جو شکار کیا گیا اور کھانے سے مراد وہ ہے جو وہ باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 18985
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا لَفَظَ بِهِ الْبَحْرُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اس کا شکار وہ ہے جو اس سے حاصل کیا جائے اور اس کا کھانا وہ ہے جو باہر پھینک دے۔
حدیث نمبر: 18986
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَنَهَاهُ عَنْ أَكْلِهِ. قَالَ نَافِعٌ: ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَرَأَ: {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} [المائدة: ٩٦]. قَالَ نَافِعٌ: فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ فَكُلْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابوہریرہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سمندر کے باہر پھینکے ہوئے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اسے نہ کھایا جائے۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قرآن لے کر آئے اور یہ آیت تلاوت کی ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ [سورة المائدة: 96] نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے عبدالرحمن بن ابوہریرہ کو بلانے بھیجا کہ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعْدٍ الْحَارِثِيِّ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ الْحِيتَانِ يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا أَوْ تَمُوتُ صَرَدًا، فَقَالَ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ. قَالَ سَعْدٌ: ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوہریرہ رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سمندر کے باہر پھینکی ہوئی چیز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) اس کے کھانے سے منع کر دیا۔