السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما لفظ البحر وطفا من ميتة باب: اس مردار کا بیان جسے سمندر باہر پھینک دے یا جو پانی پر تیرنے لگے۔
حدیث نمبر: 18981
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ثُوَيْبٍ، قَالَ: رَمَى الْبَحْرُ بِسَمَكٍ كَبِيرٍ مَيِّتٍ فَأَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَفْتَيْنَاهُ فَأَمَرَنَا بِأَكْلِهِ، فَرَغِبْنَا عَنْ فُتْيَا أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَتَيْنَا مَرْوَانَ فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: حَلَالٌ فَكُلُوهُ.حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ ثویب سے نقل فرماتے ہیں کہ سمندر نے بہت ساری مچھلیاں باہر پھینک دیں، تو ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے بارے میں فتویٰ پوچھا۔ انہوں نے کھانے کی اجازت دے دی۔ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فتویٰ سے بے رغبتی کرتے ہوئے مروان کے پاس آئے، تو انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: حلال ہیں، تم کھا سکتے ہو۔