السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: ما جاء في البهيمة تريد أن تموت فتذبح باب: اس چوپائے کے متعلق کیا مروی ہے جو مرنے کے قریب ہو تو اسے ذبح کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 18958
حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ أَرَادَتْ أَنْ تَمُوتَ فَذَبَحْنَاهَا فَقَسَمْنَاهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ؟ " قَالَتْ: أَرَادَتْ أَنْ تَمُوتَ فَذَبَحْنَاهَا فَقَسَمْنَاهَا وَلَمْ يَبْقَ عِنْدَنَا مِنْهَا إِلَّا كَتِفٌ. قَالَ: " الشَّاةُ كُلُّهَا لَكُمْ إِلَّا الْكَتِفَ ". ⦗٤٢١⦘ وَيُذْكَرُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " الذَّكَاةُ بِحَقٍّ الْعَيْنُ تَطْرِفُ، وَالذَّنَبُ يَتَحَرَّكُ، وَالرِّجْلُ تَرْتَكِضُ ". وَبِمَعْنَاهُ قَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَطَاوُسٌ وَقَتَادَةُ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شرحبیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہماری ایک بکری مرنے لگی تو ہم نے اسے ذبح کر کے تقسیم کر دی، تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”تمہاری بکری کا کیا بنا؟“ وہ کہتی ہیں: وہ مرنے لگی تھی، ہم نے ذبح کر کے گوشت تقسیم کر دیا، صرف ایک کندھے، شانے کا گوشت باقی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل بکری تمہارے لیے ہے سوائے شانے کے۔“
(ب) زہری، ابن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ذبح اس وقت بھی ہو سکتا ہے جب آنکھ اور دم حرکت کر رہے ہوں اور پاؤں بھی حرکت کر رہا ہو۔