حدیث نمبر: 18902
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، قَالَ: أَمَرَنِي نَاسٌ مِنْ أَهْلِي أَنْ أَسْأَلَ لَهُمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ أَشْيَاءَ فَكَتَبْتُهَا فِي صَحِيفَةٍ فَأَتَيْتُهُ لِأَسْأَلَهُ فَإِذَا عِنْدَهُ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ، فَسَأَلُوهُ حَتَّى سَأَلُوهُ عَنْ جَمِيعِ مَا فِي صَحِيفَتِي وَمَا سَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنِّي مَمْلُوكٌ أَكُونُ فِي إِبِلِ أَهْلِي فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْتَسْقِينِي فَأَسْقِيهِ. قَالَ: لَا. قَالَ: فَإِنْ خَشِيتُ أَنْ يَهْلِكَ؟ قَالَ: فَاسْقِهِ مَا يُبَلِّغُهُ ثُمَّ أَخْبِرْ بِهِ أَهْلَكَ. قَالَ: فَإِنِّي رَجُلٌ أَرْمِي فَأُصْمِي وَأُنْمِي. قَالَ: مَا أَصْمَيْتَ فَكُلْ، وَمَا أَنْمَيْتَ فَلَا تَأْكُلْ. قُلْتُ لِلْحَكَمِ: مَا الْإِصْمَاءُ؟ قَالَ: الْإِقْعَاصُ. قُلْتُ: فَمَا الْإِنْمَاءُ؟ قَالَ: مَا تَوَارَى عَنْكَ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرْفُوعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے مجھے چند چیزوں کے متعلق سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھنے کا کہا۔ میں ایک کاغذ لکھ کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس اس وقت آیا، جب لوگ ان سے سوال کر رہے تھے۔ جب لوگوں نے میرے لکھے ہوئے تمام سوال کر لیے اور میں نے ان سے کچھ بھی نہ پوچھا تو ایک دیہاتی نے سوال کیا کہ میں ایک غلام ہوں جو اپنے گھر والوں کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں، ایک شخص مجھ سے پانی طلب کرتا ہے کیا میں اس کو پانی پلا دوں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہ پلاؤ، دیہاتی نے کہا: اگر مجھے اس کے ہلاک ہو جانے کا ڈر محسوس ہو۔ فرمایا: اسے اتنا پانی پلاؤ کہ اس کی جان بچ جائے، پھر اس کے گھر والوں کو خبر دو۔ دیہاتی نے کہا: میں شکار کو موقع پر قتل کرتا ہوں اور زخمی بھی کرتا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کو تو موقع پر گرائے کھا لے اور جو زخمی ہو کر کہیں دور جا کر مرے اس کو نہ کھا، میں نے حکم سے پوچھا: «أَصْمَاء» کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”سینے کی بیماری“، میں نے پوچھا: «أَنْمَاء» کیا ہے؟ فرماتے ہیں: ”ایسا شکار جو آپ سے چھپ جائے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18902
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»