کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18898
فِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنِ النُّفَيْلِيِّ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَامِرٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَبْيًا، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا؟ ". قَالَ: رَمَيْتُهُ أَمْسِ فَطَلَبْتُهُ فَأَعْجَزَنِي حَتَّى أَدْرَكَنِي الْمَسَاءُ، فَرَجَعْتُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اتَّبَعْتُ أَثَرَهُ فَوَجَدْتُهُ فِي غَارٍ أَوْ فِي أَحْجَارٍ، وَهَذَا مِشْقَصِي فِيهِ أَعْرِفُهُ. قَالَ: " بَاتَ عَنْكَ لَيْلَةً وَلَا آمَنُ أَنْ تَكُونَ هَامَّةٌ أَعَانَتْكَ عَلَيْهِ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن سائب حضرت عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے ہرن کا تحفہ نبی ﷺ کو پیش کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کہاں سے حاصل کیا؟“ دیہاتی نے کہا: کل شام میں نے اس کو تیر مارا، تلاش کرتے کرتے، شام کا وقت ہو گیا، میں واپس پلٹ آیا پھر صبح کے وقت میں نے اس کا پیچھا کیا تو یہ غار یا پتھروں کے اندر پڑا ہوا تھا اور میں نے اپنا موجود نیزہ اس میں پہچان لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک رات گزر گئی، ممکن ہے کسی بیماری کی وجہ سے یہ ہلاک ہوا ہو، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18898
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18899
وَعَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَيْدٍ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَعْيَانِي وَوَجَدْتُ سَهْمِي فِيهِ مِنَ الْغَدِ وَقَدْ عَرَفْتُ سَهْمِي. فَقَالَ: " اللَّيْلُ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَظِيمٌ، لَعَلَّهُ أَعَانَكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، انْبِذْهَا عَنْكَ ". أَخْبَرَنَا بِهِمَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو رزین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص شکار لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اس کو تیر مارا اور تلاش کرتے کرتے اس نے مجھے تھکا دیا، تو صبح کے وقت میں نے اسے پا لیا اور اپنا تیر پہچان لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات اللہ رب العزت کی عظیم مخلوق ہے، شاید کسی دوسری چیز نے آپ کی مدد کی ہو، اس کو پھینک دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18899
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18900
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا غَابَ عَنْكَ الصَّيْدُ فَصَادَفْتَهُ ". وَذَكَرَ هَوَامَّ الْأَرْضِ. وَأَبُو رَزِينٍ هَذَا اسْمُهُ مَسْعُودٌ مَوْلَى شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ وَلَيْسَ بِأَبِي رَزِينٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
ابو رزین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جب شکار تجھ سے غائب ہو جائے اور پھر تو اس کو اچانک پا لے“ اور انہوں نے حشرات الارض کا ذکر کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18900
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18901
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الرَّحِيلِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَيْمُونٌ عِنْدَهُ فَقَالَ: أَصْلَحَكَ اللهُ إِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ فَأُصْمِي وَأُنْمِي فَكَيْفَ تَرَى؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " كُلْ مَا أَصْمَيْتَ وَدَعْ مَا أَنْمَيْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میمون ان کے پاس موجود تھے۔ اس دیہاتی نے کہا: ”اللہ آپ کی اصلاح کرے، میں شکار کو تیر مار کر اپنے سامنے گراتا ہوں اور زخمی کر کے چھوڑ دیتا ہوں، آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو شکار کا جانور تمہارے سامنے گر کر دم توڑ دے اسے کھاؤ اور جو زخمی ہو کر دور جا گرے اسے نہ کھاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18901
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18902
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، قَالَ: أَمَرَنِي نَاسٌ مِنْ أَهْلِي أَنْ أَسْأَلَ لَهُمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ أَشْيَاءَ فَكَتَبْتُهَا فِي صَحِيفَةٍ فَأَتَيْتُهُ لِأَسْأَلَهُ فَإِذَا عِنْدَهُ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ، فَسَأَلُوهُ حَتَّى سَأَلُوهُ عَنْ جَمِيعِ مَا فِي صَحِيفَتِي وَمَا سَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنِّي مَمْلُوكٌ أَكُونُ فِي إِبِلِ أَهْلِي فَيَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْتَسْقِينِي فَأَسْقِيهِ. قَالَ: لَا. قَالَ: فَإِنْ خَشِيتُ أَنْ يَهْلِكَ؟ قَالَ: فَاسْقِهِ مَا يُبَلِّغُهُ ثُمَّ أَخْبِرْ بِهِ أَهْلَكَ. قَالَ: فَإِنِّي رَجُلٌ أَرْمِي فَأُصْمِي وَأُنْمِي. قَالَ: مَا أَصْمَيْتَ فَكُلْ، وَمَا أَنْمَيْتَ فَلَا تَأْكُلْ. قُلْتُ لِلْحَكَمِ: مَا الْإِصْمَاءُ؟ قَالَ: الْإِقْعَاصُ. قُلْتُ: فَمَا الْإِنْمَاءُ؟ قَالَ: مَا تَوَارَى عَنْكَ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرْفُوعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے مجھے چند چیزوں کے متعلق سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھنے کا کہا۔ میں ایک کاغذ لکھ کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس اس وقت آیا، جب لوگ ان سے سوال کر رہے تھے۔ جب لوگوں نے میرے لکھے ہوئے تمام سوال کر لیے اور میں نے ان سے کچھ بھی نہ پوچھا تو ایک دیہاتی نے سوال کیا کہ میں ایک غلام ہوں جو اپنے گھر والوں کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں، ایک شخص مجھ سے پانی طلب کرتا ہے کیا میں اس کو پانی پلا دوں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہ پلاؤ، دیہاتی نے کہا: اگر مجھے اس کے ہلاک ہو جانے کا ڈر محسوس ہو۔ فرمایا: اسے اتنا پانی پلاؤ کہ اس کی جان بچ جائے، پھر اس کے گھر والوں کو خبر دو۔ دیہاتی نے کہا: میں شکار کو موقع پر قتل کرتا ہوں اور زخمی بھی کرتا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کو تو موقع پر گرائے کھا لے اور جو زخمی ہو کر کہیں دور جا کر مرے اس کو نہ کھا، میں نے حکم سے پوچھا: «أَصْمَاء» کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”سینے کی بیماری“، میں نے پوچھا: «أَنْمَاء» کیا ہے؟ فرماتے ہیں: ”ایسا شکار جو آپ سے چھپ جائے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18902
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18903
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: مَا أَصْمَيْتَ: مَا قَتَلَتْهُ الْكِلَابُ وَأَنْتَ تَرَاهُ، وَمَا أَنْمَيْتَ: مَا غَابَ عَنْكَ مَقْتَلُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا يَجُوزُ عِنْدِي فِيهِ إِلَّا هَذَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٠٥⦘ شَيْءٌ فَإِنِّي أَتَوَهَّمُهُ فَيَسْقُطَ كُلُّ شَيْءٍ خَالَفَ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَقُومَ مَعَهُ رَأْيٌ وَلَا قِيَاسٌ فَإِنَّ اللهَ قَطَعَ الْعُذْرَ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي تَوَهَّمَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «إِصْمَاءٌ» ایسا شکار ہے جس کو آپ کے دیکھتے ہوئے کتے ہلاک کر دیں اور «إِنْمَاءٌ» ایسا شکار ہے جو آپ سے غائب ہو کر مرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک صرف وہی بات درست ہے جو نبی ﷺ سے منقول ہو اور ہر وہ چیز جو نبی ﷺ کے حکم کے مخالف ہو وہ ساقط ہو جاتی ہے، رائے اور قیاس اس کے برابر نہیں ہوتا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عذر ختم کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18903
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18904
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي حَمْدَانُ بْنُ عَمْرٍو الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ هُوَ ابْنُ الرَّبِيعِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا ثَابِتٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، ثنا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَقَتَلَ فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا خَالَطَ كِلَابًا لَمْ تَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا فَأَمْسَكْنَ وَقَتَلْنَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ، وَإِنْ رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَوَجَدْتَهُ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ لَيْسَ بِهِ إِلَّا أَثَرُ سَهْمِكَ فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْكُلَ فَكُلْ، وَإِنْ وَقَعَ فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے اور کتے نے شکار کو قتل کرنے کے بعد کھایا نہیں تو آپ شکار کو کھا لیں۔ اگر کتے نے شکار سے کچھ کھا لیا تب آپ شکار نہ کھائیں، کیونکہ کتے نے شکار اپنے لیے کیا ہے اور جس وقت آپ کے کتے کے ساتھ دوسرے کتے شامل ہو جائیں جن کو چھوڑتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیا گیا، اگر وہ شکار کو قتل کر کے روک لیں، یعنی باقی رکھیں تو آپ نہ کھائیں، کیونکہ آپ کو معلوم نہیں کہ کس نے قتل کیا ہے۔ اگر شکار کو آپ تیر ماریں، ایک یا دو دن کے بعد وہی تیر والا شکار آپ پا لیں، اگر چاہو تو کھا لو، اگر وہ پانی میں گر کر ہلاک ہو جائے تو نہ کھاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18904
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ فَكُلْ إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ أَثَرِ سَهْمِكَ فَشِئْتَ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهُ فَكُلْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَدِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے شکار کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ اپنا تیر اللہ کا نام لے کر چھوڑیں، اگر آپ شکار کو پا لیں تو کھاؤ، وگرنہ اگر شکار پانی میں گر جائے تو آپ کو معلوم نہیں کہ وہ پانی کی وجہ سے یا آپ کے تیر کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔ اگر آپ ایک یا دو راتوں کے بعد شکار کو پا لیں اور شکار میں آپ کے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی دوسرا نشان نہ ہو، اگر شکار کو آپ کھانا چاہیں تو کھا لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18905
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18906
فذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَنَا يَرْمِي فَيَقْتَفِي أَثَرَهُ الْيَوْمَ وَالْيَوْمَيْنِ فَيَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ أَيَأْكُلُ؟ قَالَ: " نَعَمْ إِنْ شَاءَ ". أَوْ قَالَ: " يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی شکار کو تیر مارنے کے بعد ایک یا دو دن اس کا پیچھا کرتا ہے تو مردہ حالت میں شکار کو پا لیتا ہے، جس میں اس کا تیر بھی موجود ہے؟ کیا وہ اس کو کھا لے؟ فرمایا: ”اگر چاہے تو کھا لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18906
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18907
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي ⦗٤٠٦⦘ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَطْلُبُ الْأَثَرَ بَعْدَ لَيْلَةٍ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ أَثَرَ سَهْمِكَ فِيهِ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبْعٌ فَكُلْ ". قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بِشْرٍ فَقَالَ: قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ سَهْمَكَ فِيهِ لَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ وَتَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْهُ "..
حافظ ثناء اللہ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں شکار کو تیر مار کر ایک رات کے بعد اس کو تلاش کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ اپنے تیر کا نشان شکار میں پائیں اور درندوں نے اس سے کچھ بھی نہ کھایا ہو تو آپ کھا لیں۔“
(ب) عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ اپنے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی دوسرا نشان اس میں نہ دیکھیں اور آپ کو یقین ہو کہ آپ نے اس کو قتل کیا ہے تو کھالو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18907
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18908
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بِشْرٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا عَرَفْتَ سَهْمَكَ فِيهِ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِهِ وَتَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ شکار میں اپنے تیر کے علاوہ کسی کا نشان نہ دیکھیں اور آپ کو یقین ہو کہ تو نے اس کو قتل کیا ہے تو کھا لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18908
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18909
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَجِدُهُ مِنَ الْغَدِ فِيهِ سَهْمِي. قَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ قَتَلَهُ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ سَبُعٍ فَكُلْ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں شکار کرتا ہوں اور صبح کے وقت میں اپنا تیر شکار میں پاتا ہوں۔ فرمایا: ”جب تو اپنا تیر شکار میں پائے اور تجھے اس کے قتل کا یقین ہو اور کسی درندے کا نشان بھی اس میں نہ دیکھے تو کھالو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18909
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18910
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَغَابَ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْ مَا لَمْ يُنْتِنْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ الرَّازِيِّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ الْخَيَّاطِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو شکار کو تیر مارے اور شکار تین دن تک غائب رہنے کے بعد مل جائے تو بدبو پیدا ہونے سے پہلے آپ کھا سکتے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18910
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18911
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَصْرٍ الْأَنْطَاكِيُّ، قَالَا: ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، ⦗٤٠٧⦘ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ قَالَ: " يَأْكُلُهُ إِلَّا أَنْ يُنْتِنَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ عَنْ مَعْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس شکار کے متعلق جو تین دن کے بعد پا لیا جائے، فرمایا: ”بدبودار ہونے سے قبل کھایا جا سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18911
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي. قَالَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ ". قَالَ: ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ؟ قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي؟ قَالَ: " وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ أَوْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ سَهْمِكَ ". قَالَ: أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْتُ إِلَيْهَا. قَالَ: " اغْسِلْهَا وَكُلْ فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی جس کو ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، اس نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میرے قوس کے بارے میں فتویٰ دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تیرا تیر واپس کر دے کھا لے۔“ اس نے کہا: ذبح کر کے یا بغیر ذبح کیے؟ پھر اس نے کہا: اگر وہ مجھ سے غائب ہی رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ تجھ سے غائب رہے جب تک خراب نہ ہو یا کسی دوسرے تیر کا نشان نہ دیکھیں۔“ اس نے کہا: مجوس کے برتنوں کے بارے میں فتویٰ دیں، کیا وہ مجبوری کے وقت استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دھو کر استعمال کر لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18912
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18913
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا أَبُو مُوسَى، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي. قَالَ: " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ ". قُلْتُ: فَإِنْ تَوَارَى عَنِّي؟ قَالَ: " وَإِنْ تَوَارَى عَنْكَ بَعْدَ أَنْ لَا تَرَى فِيهِ إِلَّا أَثَرَ سَهْمِكَ أَوْ يَصِلَّ " قَالَ أَبُو مُوسَى: يَعْنِي يَتَغَيَّرُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ قَالَ: قَوْلُهُ مَا لَمْ يَصِلَّ فَإِنَّهُ يُرِيدُ مَا لَمْ يُنْتِنْ وَتَغَيَّرَ رِيحُهُ، يُقَالُ: صَلَّ اللَّحْمُ وَأَصَلَّ لُغَتَانِ، وَهَذَا عَلَى مَعْنَى الِاسْتِحْبَابِ دُونَ التَّحْرِيمِ؛ لِأَنَّ تَغَيُّرَ رِيحِهِ لَا يُحَرِّمُ أَكْلَهُ. قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ إِهَالَةً سَنِخَةً، وَهِيَ الْمُتَغَيِّرَةُ الرِّيحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ”میرے تیر کے بارے میں فتویٰ دیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ جو تمہارا تیر تجھے لوٹا دے۔“ میں نے کہا: ”اگر وہ مجھ سے چھپ جائے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر شکار تجھ سے غائب بھی رہے اور اپنے تیر کے علاوہ اس میں کوئی نشان نہ دیکھے یا (وہ) خراب نہ ہو۔“
شیخ فرماتے ہیں: ایسا گوشت جس کی بو تبدیل ہو جائے، یہ کھانا حرام نہیں ہے، کیونکہ نبی ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے ایسی چربی کھائی جس کی بو تبدیل ہو چکی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18913
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18914
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْأَشْيَبِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ دُعِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ كَمَا أَخْرَجَاهُ فِي كِتَابِ الرَّهْنِ. وَفِي حَدِيثِ الْبَهْزِيِّ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ الْعَقِيرِ، وَفِي الظَّبْيِ الْحَاقِفِ فِيهِ سَهْمٌ، قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جو کی روٹی اور ایسی چربی جس کی بو تبدیل ہو چکی تھی، پر دعوت دی گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18914
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٢٠٦٩»
حدیث نمبر: 18915
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَتَّى أَتَى الرَّوْحَاءَ رَأَى حِمَارًا عَقِيرًا، زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ فِي بَعْضِ أَفْنَائِهَا وَقَالَا جَمِيعًا: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا حِمَارٌ عَقِيرٌ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ فَإِنَّ الَّذِي أَصَابَهُ سَيَجِيءُ ". فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ هَذَا فَشَأْنُكُمْ بِهِ. فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْإِثَابَةِ بَيْنَ الْعَرْجِ وَالرُّوَيْثَةِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ فِيهِ سَهْمٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يُقِيمَ عِنْدَهُ حَتَّى يُجِيزَ آخِرُ النَّاسِ لَا يَعْرِضُ لَهُ..
حافظ ثناء اللہ
عمیر بن سلمہ ضمری فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے روحاء نامی جگہ پر ایک زخمی گدھے کو دیکھا۔ محمد بن ابی بکر نے اپنی حدیث میں زیادہ کیا ہے کہ جنگل میں۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ زخمی گدھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو اس کا مالک آ جائے گا۔“ تو بہز قبیلے کا ایک شخص آیا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اس کو شکار کیا تھا، آپ اپنے استعمال میں لا سکتے ہو۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں، پھر آپ ﷺ چلتے ہوئے اثابہ نامی جگہ جو عرج اور رویثیہ کے درمیان ہے پہنچے تو ایک ہرن جو سائے میں جسم کو ٹیڑھا کیے ہوئے بیٹھا تھا اور اس میں تیر بھی موجود تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اس کے پاس کھڑا کر دیا تاکہ کوئی شخص اسے نہ پکڑے یہاں تک کہ سارے لوگ گزر جائیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18915
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18916
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ سَلَمَةَ الضَّمْرِيَّ أَخْبَرَهُ عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ أَفْنَاءِ الرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ، فَذَكَرَهُ الْقَوْمُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
عمیر بن سلمہ ضمری ایک بہزی شخص رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ حالتِ احرام میں روحاء کے جنگل کے بعض حصے سے گزرے تو وہاں ایک زخمی وحشی گدھا موجود تھا، تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 18916
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»