السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18903
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: مَا أَصْمَيْتَ: مَا قَتَلَتْهُ الْكِلَابُ وَأَنْتَ تَرَاهُ، وَمَا أَنْمَيْتَ: مَا غَابَ عَنْكَ مَقْتَلُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا يَجُوزُ عِنْدِي فِيهِ إِلَّا هَذَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٤٠٥⦘ شَيْءٌ فَإِنِّي أَتَوَهَّمُهُ فَيَسْقُطَ كُلُّ شَيْءٍ خَالَفَ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَقُومَ مَعَهُ رَأْيٌ وَلَا قِيَاسٌ فَإِنَّ اللهَ قَطَعَ الْعُذْرَ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي تَوَهَّمَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «إِصْمَاءٌ» ایسا شکار ہے جس کو آپ کے دیکھتے ہوئے کتے ہلاک کر دیں اور «إِنْمَاءٌ» ایسا شکار ہے جو آپ سے غائب ہو کر مرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس میں اس کے سوا کچھ جائز نہیں، الا یہ کہ نبی ﷺ سے اس بارے میں کچھ منقول ہو، جس کا مجھے گمان ہے، تو پھر ہر وہ چیز جو نبی ﷺ کے حکم کے مخالف ہو وہ ساقط ہو جاتی ہے، رائے اور قیاس اس کے برابر نہیں ہوتا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے فرمان کے ذریعے عذر ختم کر دیا ہے۔