السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18901
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الرَّحِيلِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَيْمُونٌ عِنْدَهُ فَقَالَ: أَصْلَحَكَ اللهُ إِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ فَأُصْمِي وَأُنْمِي فَكَيْفَ تَرَى؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " كُلْ مَا أَصْمَيْتَ وَدَعْ مَا أَنْمَيْتَ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میمون ان کے پاس موجود تھے۔ اس دیہاتی نے کہا: ”اللہ آپ کی اصلاح کرے، میں شکار کو تیر مار کر اپنے سامنے گراتا ہوں اور زخمی کر کے چھوڑ دیتا ہوں، آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو شکار کا جانور تمہارے سامنے گر کر دم توڑ دے اسے کھاؤ اور جو زخمی ہو کر دور جا گرے اسے نہ کھاؤ۔“