السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: المعلم يأكل من الصيد الذي قد قتل باب: سدھائے ہوئے جانور کا اس شکار میں سے کھانے کا بیان جسے وہ مار چکا ہو۔
حدیث نمبر: 18870
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيِّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ: " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ أَصَبْتَ مَعَ كَلْبِكَ أَوْ كِلَابِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى كِلَابِ غَيْرِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تمہارے لیے روک لے کھا لو کیونکہ اس کا پکڑ لینا ہی ذبح کرنا ہے۔ اگر آپ اپنے شکاری کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا یا کتے پائیں تب نہ کھائیں، آپ نے اپنے شکاری کتے کو چھوڑتے ہوئے «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا ہے جب کہ دوسرے کتوں کے چھوڑتے ہوئے نہیں پڑھا گیا۔“