السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: المعلم يأكل من الصيد الذي قد قتل باب: سدھائے ہوئے جانور کا اس شکار میں سے کھانے کا بیان جسے وہ مار چکا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَارِمٌ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ الْأَزْرَقِ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ إِذَا أَرْسَلْتُ كَلْبِي فَسَمَّيْتُ فَقَتَلَتِ الصَّيْدَ آكُلُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ نَافِعٌ: يَقُولُ اللهُ: {إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ} [المائدة: ٣] تَقُولُ أَنْتَ: وَإِنْ قَتَلَ. قَالَ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَمْسَكَ عَلَى سِنَّورٍ فَأَدْرَكْتُ ذَكَاتَهُ كَانَ يَكُونُ ⦗٣٩٥⦘ عَلَيَّ بَأْسٌ؟ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ فِي أِيِّ كِلَابٍ نَزَلَتْ، نَزَلَتْ فِي كِلَابِ بَنِي نَبْهَانَ مِنْ طَيِّئٍ، وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ وَلَيَكُونَنَّ لَكَ نَبَأٌ.نافع بن ازرق نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے جب میں اپنے سکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑوں پھر وہ شکار کو قتل کر دیتا ہے، کیا میں اس شکار کو کھا لوں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کھا لو۔ نافع کہتے ہیں کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 3] یعنی اس وقت کھاؤ جب تم ذبح کرو، آپ کہتے ہیں کہ اگر شکار قتل بھی کر دیا جائے تو بھی کھا لو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے ابن ازرق! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اس کو پکڑ کر ذبح کروں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کن کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ بنو نبھان جو قبیلہ طئی سے ہیں، ان کے کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اے ابن ازرق! تجھ پر افسوس، ضرور تیرے لیے کوئی خبر ہوگی۔