السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحوں سے متعلق
باب: المعلم يأكل من الصيد الذي قد قتل باب: سدھائے ہوئے جانور کا اس شکار میں سے کھانے کا بیان جسے وہ مار چکا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ ". قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: " وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا ". قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَرَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ مَنْصُورٍ.سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اپنے شکاری سکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتے ہیں، وہ شکار کو ہمارے لیے محفوظ کر لیتا ہے، کیا میں اس پر اللہ کا نام ذکر کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑے اور تو نے «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا ہو تو کھاؤ۔“ میں نے پوچھا: اگر کتا شکار کو قتل کر دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شامل نہ ہو تب وہ قتل بھی کر دے تو کھا لو۔“ پھر میں نے عرض کیا کہ میں پھالا مار کر شکار کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ پھالا مار کر شکار کریں اور وہ شکار کو سوراخ کر دے تو کھا لو، اگر اس کو چوڑائی کے بل لگے تو پھر نہ کھاؤ۔“