السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حد الذميين باب: ذمیوں (اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں) کی حد کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
وَهُوَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ بَجَالَةَ، يَقُولُ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزِيِّ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ: " اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ أَوْ سَاحِرَةٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ، وَانْهَوْهُمْ عَنِ الزَّمْزَمَةِ "، فَقَتَلْنَا ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَحَرِيمِهَا فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَنَعَ طَعَامًا كَثِيرًا وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ، وَدَعَا الْمَجُوسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَأَكَلُوا بِغَيْرِ زَمْزَمَةٍ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبِلَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ.بجالہ کہتے ہیں کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزی بن معاویہ کا کاتب تھا، ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خط ان کی موت سے ایک سال پہلے آیا، انہوں نے لکھا تھا کہ ہر جادو گر مرد و عورت کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں سے ہر ذی محرم کو الگ کر دو اور انہیں زمزمہ سے روک دو، تو ہم نے تین جادو گروں کو قتل کیا اور ہم نے مجوسیوں میں ذی محرم عورت کہ جس سے محرم نے شادی کی تھی، ان کو جدا کیا اور بہت سارا کھانا بنوایا اور تلوار اس کی ران پر پیش کی اور مجوسیوں کو بلایا، انہوں نے ایک یا دو خچروں کی ہڈی کے برابر چاندی ڈالی اور بغیر زمزمہ کے کھایا، اور شروع میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے ”ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔“