کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ذمیوں (اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں) کی حد کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17114
وَمَنْ قَالَ: إِنَّ الْإِمَامَ مُخَيَّرٌ فِي الْحُكْمِ بَيْنَهُمْ، وَإِنْ حَكَمَ حَكَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ قَالَ: عَلَيْهِ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ وَلَيْسَ لَهُ الْخِيَارُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ: {فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ}، فَفِي هَذِهِ الْآيَةِ بَيَانٌ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ جَعَلَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِيَارَ فِي الْحُكْمِ بَيْنَهُمْ أَوْ يُعْرِضُ عَنْهُمْ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ إِنْ حَكَمَ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ مَنْ أَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ} [المائدة: 49]: إِنْ حَكَمْتَ، لَا عَزْمًا أَنْ تَحْكُمَ.
حافظ ثناء اللہ
اور جس نے یہ کہا کہ امام کو ان (اہل کتاب) کے درمیان فیصلہ کرنے میں اختیار ہے، اور اگر وہ فیصلہ کرے تو اسی کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ عزوجل نے نازل فرمایا ہے، اور جس نے یہ کہا کہ اس پر ان کے درمیان فیصلہ کرنا لازم ہے اور اسے (فیصلہ نہ کرنے کا) اختیار نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ ’پس اگر وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں یا ان سے منہ پھیر لیں۔‘ [سورة المائدة: 42] تو اس آیت میں، واللہ اعلم، اس بات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ اختیار دیا کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرمائیں، اور آپ ﷺ پر یہ لازم کیا کہ اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور میں نے اہل علم میں سے ایک ایسے شخص کو، جن (کے علم) سے میں مطمئن ہوں، اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ﴾ ’اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔‘ [سورة المائدة: 49] کے بارے میں یہ کہتے سنا: (اس کا مطلب ہے کہ) اگر آپ فیصلہ کریں (تو اس کے مطابق کریں)، یہ لازمی حکم نہیں کہ آپ (ضرور) فیصلہ کریں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ ’پس اگر وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں یا ان سے منہ پھیر لیں۔‘ [سورة المائدة: 42] تو اس آیت میں، واللہ اعلم، اس بات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ اختیار دیا کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرمائیں، اور آپ ﷺ پر یہ لازم کیا کہ اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور میں نے اہل علم میں سے ایک ایسے شخص کو، جن (کے علم) سے میں مطمئن ہوں، اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ﴾ ’اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔‘ [سورة المائدة: 49] کے بارے میں یہ کہتے سنا: (اس کا مطلب ہے کہ) اگر آپ فیصلہ کریں (تو اس کے مطابق کریں)، یہ لازمی حکم نہیں کہ آپ (ضرور) فیصلہ کریں۔“
حدیث نمبر: 17114
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، قَالَا: " إِذَا ارْتَفَعَ أَهْلُ الْكِتَابِ إِلَى حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ إِنْ شَاءَ حَكَمَ بَيْنَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ أَعْرَضَ عَنْهُمْ، فَإِنْ حَكَمَ حَكَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ جب غیر مسلم مسلمان حکام کے پاس فیصلہ لائیں تو وہ چاہیں تو کر دیں اور نہ چاہیں تو نہ کریں، اگر فیصلہ کریں تو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق کریں۔
حدیث نمبر: 17115
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ الْعَوَّامُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، فِي قَوْلِهِ: " {فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ} [المائدة: ٤٢]، قَالَ: بِالرَّجْمِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم تیمی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ [سورة المائدة: 42] کے مطابق فرماتے ہیں کہ رجم کا فیصلہ۔
حدیث نمبر: 17116
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " خَلُّوا بَيْنَ أَهْلِ الْكِتَابِ وَبَيْنَ حُكَّامِهِمْ، فَإِنِ ارْتَفَعُوا إِلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا عَلَيْهِمْ مَا فِي كِتَابِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ غیر مسلم اور ان کے حکمرانوں کو چھوڑ دو، اگر وہ تمہارے پاس فیصلہ لائیں تو تم اپنے قرآن کے مطابق فیصلہ کرو۔
حدیث نمبر: 17117
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو عَوْفٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا، فَقَالَ: " كَيْفَ تَعْمَلُونَ بِمَنْ زَنَى مِنْكُمْ؟ " قَالُوا: نَضْرِبُهُمَا وَنُحَمِّمُهُمَا بِأَيْدِينَا، فَقَالَ: " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ؟ " قَالُوا: لَا نَجْدُ فِيهَا شَيْئًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ، فِي التَّوْرَاةِ الرَّجْمُ، ⦗٤٣٠⦘ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ، فَجَاءُوا بِالتَّوْرَاةِ، فَوَضَعَ مِدْرَاسُهَا الَّذِي يَدْرُسُهَا كَفَّهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَطَفِقَ يَقْرَأُ مَا دُونَ يَدِهِ وَمَا وَرَاءَهَا، وَلَا يَقْرَأُ آيَةَ الرَّجْمِ، فَضَرَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ يَدَهُ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: هِيَ آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا قَرِيبٌ مِنْ حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَرَأَيْتُ صَاحِبَهَا يَحْنِي عَلَيْهَا يَقِيهَا الْحِجَارَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ عَنْ زُهَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
یہ پہلے نمبر 16929 کے تحت گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 17118
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمٍ مَجْذُومٍ، فَدَعَاهُمْ فَقَالَ لَهُمْ: " هَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ فَقَالَ: " أَنْشُدُكَ اللهَ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ؟ " فَقَالَ: اللهُمَّ لَا، وَلَوْلَا أَنَّكَ نَشَدْتَنِي بِهَذَا لَمْ أُخْبِرْكَ، نَجِدُ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِنَا الرَّجْمَ، وَلَكِنَّهُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ تَرَكْنَاهُ، وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقُلْنَا: تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلَى شَيْءٍ نُقِيمُهُ عَلَى الشَّرِيفِ وَالضَّعِيفِ، فَاجْتَمَعْنَا عَلَى التَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ مَكَانَ الرَّجْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرًا إِذْ أَمَاتُوهُ " فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ} [المائدة: ٤١]، إِلَى قَوْلِهِ: {يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ} [المائدة: ٤١]، يَقُولُونَ: ائْتُوا مُحَمَّدًا فَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالتَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ فَخُذُوهُ، وَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوا، إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤]، قَالَ: فِي الْيَهُودِ إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [المائدة: ٤٥] قَالَ: فِي الْيَهُودِ، قَالَ: قَوْلُهُ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: ٤٧]، قَالَ: فِي الْكُفَّارِ كُلُّهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
تقدم برقم 16930
حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کریں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة المائدة: 41] تو وہ کہنے لگے: محمد ﷺ کے پاس چلو، اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کوڑوں کا فیصلہ دیں تو لے لینا، اگر رجم کا کہیں تو چھوڑ دینا، تو یہ آیات ان کے بارے میں نازل ہوئیں: ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44]، ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ [سورة المائدة: 45] اور ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [سورة المائدة: 47] اور کہا: یہ تمام کافروں کے بارے میں ہے۔
حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کریں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة المائدة: 41] تو وہ کہنے لگے: محمد ﷺ کے پاس چلو، اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کوڑوں کا فیصلہ دیں تو لے لینا، اگر رجم کا کہیں تو چھوڑ دینا، تو یہ آیات ان کے بارے میں نازل ہوئیں: ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44]، ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ [سورة المائدة: 45] اور ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [سورة المائدة: 47] اور کہا: یہ تمام کافروں کے بارے میں ہے۔
حدیث نمبر: 17119
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا، مِنْ عُزَيْنَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَحْبَارَ يَهُودَ اجْتَمَعُوا فِي بَيْتِ الْمِدْرَاسِ حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَقَدْ زَنَى مِنْهُمْ رَجُلٌ بَعْدَ إِحْصَانِهِ بِامْرَأَةٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ أَحْصَنَتْ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا بِهَذَا ⦗٤٣١⦘ الرَّجُلِ وَبِهَذِهِ الْمَرْأَةِ إِلَى مُحَمَّدٍ فَسَلُوهُ: كَيْفَ الْحَكَمُ فِيهِمَا؟ وَوَلُّوهُ الْحُكْمَ عَلَيْهِمَا، فَإِنْ عَمِلَ بِعَمَلِكُمْ فِيهِمَا مِنَ التَّجْبِيَةِ، وَهُوَ الْجَلْدُ بِحَبْلٍ مِنْ لِيفٍ مَطْلِيٍّ بِقَارٍ ثُمَّ يُسَوَّدُ وُجُوهُهُمَا ثُمَّ يُحْمَلَانِ عَلَى حِمَارَيْنِ وَيُحَوَّلُ وُجُوهُهُمَا مِنْ قُبُلٍ إِلَى دُبُرِ الْحِمَارِ، فَاتَّبِعُوهُ وَصَدِّقُوهُ، فَإِنَّمَا هُوَ مَلِكٌ، وَإِنْ هُوَ حَكَمَ فِيهِمَا بِالرَّجْمِ، فَاحْذَرُوا عَلَى مَا فِي أَيْدِيكُمْ أَنْ يَسْلُبَكُمُوهُ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ هَذَا الرَّجُلُ قَدْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ بِامْرَأَةٍ قَدْ أَحْصَنْتَ، فَاحْكُمْ فِيهِمَا فَقَدْ وَلَّيْنَاكَ الْحُكْمَ فِيهِمَا، فَمَشَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى أَحْبَارَهُمْ فِي بَيْتِ الْمِدْرَاسِ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَخْرِجُوا إِلِيَّ أَعْلَمَكُمْ " فَأَخْرَجُوا إِلَيْهِ عَبْدَ اللهِ بْنَ صُورِيَا الْأَعْوَرَ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ بَنِي قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ أَخْرَجُوا إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ مَعَ ابْنِ صُورِيَا أَبَا يَاسِرِ بْنَ أَخْطَبَ وَوَهْبَ بْنَ يَهُوذَا، فَقَالُوا: هَؤُلَاءِ عُلَمَاؤُنَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَطِلَ أَمْرُهُمْ، إِلَى أَنْ قَالُوا لِابْنِ صُورِيَا: هَذَا أَعْلَمُ مَنْ بَقِيَ بِالتَّوْرَاةِ، فَخَلَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ غُلَامًا شَابًّا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَأَلَظَّ بِهِ الْمَسْأَلَةَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ: " يَا ابْنَ صُورِيَا أَنْشُدُكَ اللهَ وَأُذَكِّرُكَ أَيَّامَهُ عِنْدَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ حَكَمَ فِيمَنْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ بِالرَّجْمِ فِي التَّوْرَاةِ؟ " فَقَالَ: اللهُمَّ نَعَمْ، أَمَا وَاللهِ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّهُمْ لَيَعْرِفُونَ أَنَّكَ نَبِيُّ مُرْسَلٌ، وَلَكِنَّهُمْ يَحْسِدُونَكَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا عِنْدَ بَابِ مَسْجِدِهِ فِي بَنِي غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، ثُمَّ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ ابْنُ صُورِيَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ} [المائدة: ٤١]، إِلَى قَوْلِهِ: {سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ} [المائدة: ٤١] يَعْنِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوهُ وَبَعَثُوا وَتَخَلَّفُوا وَأَمَرُوهُمْ بِمَا أَمَرُوهُمْ بِهِ مِنْ تَحْرِيفِ الْحُكْمِ عَنْ مَوَاضِعِهِ، قَالَ: {يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ} [المائدة: ٤١] لِلتَّجْبِيَةِ {وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ} [المائدة: ٤١] أَيِ الرَّجْمِ {فَاحْذَرُوا} [المائدة: ٤١]، إِلَى آخِرِ الْقِصَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں آئے تو تمام یہود بیت المدراس میں جمع ہو گئے اور ان میں سے ایک شادی شدہ مرد و عورت نے زنا کر لیا تو وہ کہنے لگے: ”ان دونوں کو محمد ﷺ کے پاس لے چلو، وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر وہ تمہیں اس کا حکم دیں کہ ان کے منہ کالے کر کے گدھے پر بٹھائے جائیں اور کوڑے مارے جائیں تو وہ بادشاہ ہیں، ان کی بات مان لینا۔ اگر وہ تمہیں رجم کا حکم دیں تو ان کی بات چھوڑ دینا۔“ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور بتایا کہ انھوں نے زنا کیا ہے اور شادی شدہ ہیں اور کہا کہ آپ فیصلہ فرمائیں تو نبی ﷺ بیت المدراس کی طرف گئے اور لوگوں کو کہا: ”اپنے سب سے بڑے علما کو نکالو۔“ تو انھوں نے عبداللہ بن صوریا اعور کو نکالا اور کہا: ”یہ ہمارے عالم ہیں۔“ بنو قریظہ کے ایک شخص نے بتایا کہ انھوں نے ابن صوریا کے ساتھ ابو بن اخطب اور وہب بن پھوذا کو نکالا اور کہا: ”یہ ہمارے علما ہیں۔“ جب ان میں آپس میں اختلاف ہوا تو انھوں نے ابن صوریا پر فیصلہ چھوڑ دیا اور کہا: ”یہی تورات کے سب سے بڑے عالم ہیں۔“ چنانچہ آپ ﷺ ابن صوریا کو تنہائی میں لے گئے اور وہ نوجوان تھا، آپ ﷺ نے اس سے مسئلے میں غور و فکر کیا اور اسے اللہ کی قسم اور اللہ کی بنی اسرائیل پر نعمتیں یاد دلا کر پوچھا: ”کیا شادی شدہ زانی کے لیے تورات میں رجم نہیں ہے؟“ اس نے کہا: «وَاللّٰهِ نَعَمْ» ”اللہ کی قسم! ہاں ہے، لیکن اے ابوالقاسم! یہ جانتے ہیں کہ آپ مبعوث نبی ہیں لیکن یہ آپ سے حسد کرتے ہیں۔“ تو نبی ﷺ نکلے اور مسجد بنو غنم بن مالک کے دروازے کے پاس ان کو رجم کر دیا۔ اس کے بعد ابن صوریا نے کفر کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿یَا أَیُّهَا الرَّسُولُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِینَ یُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ﴾ سے لے کر ﴿لَمْ یَأْتُوكَ﴾ [سورة المائدة: 41] تک، یعنی وہ لوگ جو آپ کے پاس نہیں آئے اور انھوں نے بھیجا اور خود پیچھے رہ گئے اور انھوں نے لوگوں کو اس کا حکم دیا جو انھیں حکم نہیں دیا گیا تھا، یعنی انھوں نے احکامات میں تحریف کر ڈالی اور وہ کہتے کہ اگر وہ تمہیں «التَّجْبِيَةُ» ”تتجبیہ“ کا حکم دیں تو لے لینا اور اگر رجم کا حکم دیں تو چھوڑ دینا۔
حدیث نمبر: 17120
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا، مِنْ مُزَيْنَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " زَنَى رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ وَقَدْ أُحْصِنَا حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَقَدْ كَانَ الرَّجْمُ مَكْتُوبًا عَلَيْهِمْ فِي التَّوْرَاةِ فَتَرَكُوهُ وَأَخَذُوا بِالتَّجْبِيَةِ يُضْرَبُ مِائَةً بِحَبْلٍ مَطْلِيٍّ بِقَارٍ، يُحْمَلُ عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ مِمَّا يَلِي دُبُرَ الْحِمَارِ، فَاجْتَمَعَ أَحْبَارٌ مِنْ أَحْبَارِهِمْ فَبَعَثُوا قَوْمًا آخَرِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: سَلُوهُ عَنْ حَدِّ الزَّانِي، قَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: قَالَ:⦗٤٣٢⦘ وَلَمْ يَكُونُوا مِنْ أَهْلِ دِينِهِ فَيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ فَخُيِّرَ فِي ذَلِكَ قَالَ: {فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ}.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔“
حدیث نمبر: 17121
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ وَكِيعٌ: عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ مُخَارِقٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، كَتَبَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ مُسْلِمٍ، زَنَى بِنَصْرَانِيَّةٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنْ أَقِمِ الْحَدَّ، عَلَى الْمُسْلِمِ، وَادْفَعِ النَّصْرَانِيَّةَ إِلَى أَهْلِ دِينِهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا عِنْدَكَ فَهُوَ يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّ الْإِمَامَ مُخَيَّرٌ فِي أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَوْ يَتْرُكَ الْحُكْمَ عَلَيْهِمْ، فَعُورِضَ بِحَدِيثِ بَجَالَةَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ایک مسلمان نے ایک عیسائی عورت سے زنا کر لیا، تو آپ نے اسے جواب دیا کہ مسلمان پر حد قائم کر دو اور عورت کو اس کے دین والوں کی طرف لوٹا دو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے یا نہ کرنے میں اسے اختیار ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے یا نہ کرنے میں اسے اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 17122
وَهُوَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ بَجَالَةَ، يَقُولُ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزِيِّ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ: " اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ أَوْ سَاحِرَةٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ، وَانْهَوْهُمْ عَنِ الزَّمْزَمَةِ "، فَقَتَلْنَا ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَحَرِيمِهَا فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَنَعَ طَعَامًا كَثِيرًا وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ، وَدَعَا الْمَجُوسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَأَكَلُوا بِغَيْرِ زَمْزَمَةٍ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبِلَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ.
حافظ ثناء اللہ
بجالہ کہتے ہیں کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزی بن معاویہ کا کاتب تھا، ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خط ان کی موت سے ایک سال پہلے آیا، انہوں نے لکھا تھا کہ ہر جادو گر مرد و عورت کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں سے ہر ذی محرم کو الگ کر دو اور انہیں زمزمہ سے روک دو، تو ہم نے تین جادو گروں کو قتل کیا اور ہم نے مجوسیوں میں ذی محرم عورت کہ جس سے محرم نے شادی کی تھی، ان کو جدا کیا اور بہت سارا کھانا بنوایا اور تلوار اس کی ران پر پیش کی اور مجوسیوں کو بلایا، انہوں نے ایک یا دو خچروں کی ہڈی کے برابر چاندی ڈالی اور بغیر زمزمہ کے کھایا، اور شروع میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے ”ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔“
حدیث نمبر: 17123
أَخْبَرَنَا أَبَو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقُلْتُ لَهُ: بَجَالَةُ رَجُلٌ مَجْهُولٌ، وَلَيْسَ بِالْمَشْهُوَرِ، وَلَسْنَا نَحْتَجُّ بِرِوَايَةِ مَجْهُولٍ، وَلَا نَعْرِفُ أَنْ جَزِيَّ بْنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ عَلَيْهِ إِلَى أَنْ قَالَ: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ رَوَى عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُكْمَ بَيْنَهُمْ إِلَّا فِي الْمُوَادَعَيْنِ اللَّذَيْنِ رُجِمَا، وَلَا نَعْلَمُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ بَعْدَهُ إِلَّا مَا رَوَى بَجَالَةُ مِمَّا يُوَافِقُ حُكْمَ الْإِسْلَامِ، وَسِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِمَّا يُوَافِقُ قَوْلَنَا، فِي أَنَّهُ لَيْسَ لِلْإِمَامِ أَنْ ⦗٤٣٣⦘ يَحْكُمَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ، وَهَاتَانِ الرُّوَايَتَانِ، وَإِنْ لَمْ تُخَالِفْنَا، غَيْرُ مَعْرُوفَتَيْنِ عِنْدَنَا، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ لَا نَكُونَ مِمَّنْ تَدَعُوهُ الْحُجَّةُ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ إِلَى قَبُولِ خَبَرِ مَنْ لَا يَثْبُتُ خَبَرُهُ بِمَعْرِفَتِهِ عِنْدَهُ كَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الْحُدُودِ، وَنَصَّ فِي كِتَابِ الْجِزْيَةِ عَلَى أَنْ لَيْسَ لِلْإِمَامِ الْخِيَارُ فِي أَحَدٍ مِنَ الْمُعَاهِدِينَ الَّذِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمُ الْحُكْمُ إِذَا جَاءُوهُ فِي حَدِّ اللهِ، وَعَلَيْهِ أَنْ يُقِيمَهُ، وَاحْتَجَّ بِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩]، قَالَ: فَكَانَ الصَّغَارُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنْ يَجْرِيَ عَلَيْهِمْ حُكْمُ الْإِسْلَامِ وَذَكَرَ فِي هَذَا الْكِتَابِ حَدِيثَ بَجَالَةَ فِي الْجِزْيَةِ وَقَالَ: حَدِيثُ بَجَالَةَ مُتَّصِلٌ ثَابِتٌ؛ لِأَنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ رَجُلًا فِي زَمَانِهِ كَاتِبًا لِعُمَّالِهِ، وَكَأَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ لَمْ يَقِفْ عَلَى حَالِ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ عَبْدَةَ، حِينَ صَنَّفَ كِتَابَ الْحُدُودِ، ثُمَّ وَقَفَ عَلَيْهِ حِينَ صَنَّفَ كِتَابَ الْجِزْيَةِ، إِنْ كَانَ صَنَّفَهُ بَعْدَهُ، وَحَدِيثُ بَجَالَةَ أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ فِيهِ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ، فَتَرَكَهُ مُسْلِمٌ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلٌ، وَقَابُوسُ بْنُ مُخَارِقٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ: وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِينَ عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ عَنِ الْحَسَنِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں بجالہ بھی مجہول ہے اور جزی بن معاویہ، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عامل تھے، وہ کون تھے؟ یہ بھی پتا نہیں اور ہمیں یہ بھی پتا نہیں کہ یہود کے رجم والے فیصلے کے علاوہ کوئی اور فیصلہ بھی آپ ﷺ نے ان کے بارے میں کیا تھا؟ اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ایسی کوئی چیز ملتی ہے۔ ایسے ہی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی امام کے پاس اللہ کی حدود میں سے کوئی فیصلہ آ جائے تو اسے کوئی اختیار نہیں کہ وہ فیصلہ کرے یا نہ کرے بلکہ حد کو قائم کرے اور انہوں نے دلیل پکڑی ہے: ﴿حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ﴾ [سورة التوبة: 29]، تو صغار کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان پر اسلام کا حکم نافذ کیا جائے اور پھر کہتے ہیں کہ حدیثِ بجالہ متصل اور ثابت ہے اور بجالہ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عمال میں سے ہیں، تو پتا یہ چلتا ہے کہ جب امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الحدود لکھی تب بجالہ کے بارے میں نہیں جانتے تھے اور جب کتاب الجزیہ لکھی تو ان کے حالات سے واقف ہو گئے تھے۔ حدیثِ بجالہ کے بارے میں بخاری و مسلم میں بھی اختلاف ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کی روایت نہیں لی، امام بخاری رحمہ اللہ نے لی ہے۔
حدیث نمبر: 17124
وَإِنَّمَا عْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ: أَمَّا بَعْدُ فَسَلِ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ: مَا مَنَعَ مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الْأَئِمَّةِ أَنْ يَحُولُوا بَيْنَ الْمَجُوسِ وَبَيْنَ مَا يَجْمَعُونَ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَجْمَعُهُنَّ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْمِلَلِ غَيْرُهُمْ؟ قَالَ: فَسَأَلَ عَدِيٌّ الْحَسَنَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " قَبِلَ مِنْ مَجُوسِ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ الْجِزْيَةَ، وَأَقَرَّهُمْ عَلَى مَجُوسِيَّتِهِمْ، وَعَامِلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَحْرَيْنِ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ، وَأَقَرَّهُمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقَرَّهُمْ عُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَأَقَرَّهُمْ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. ⦗٤٣٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْأَثَرُ إِنَّمَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمْ يُتْرَكُونَ وَأَمْرَهُمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ مَا لَمْ يَتَحَاكَمُوا إِلَيْنَا، فَإِذَا تَرَافَعُوا إِلَيْنَا فِي حُكْمٍ حَكَمْنَا بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ آيَةَ التَّخْيِيرِ فِي الْحُكْمِ صَارَتْ مَنْسُوخَةً.
حافظ ثناء اللہ
عوف دیہاتی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عدی بن ارطاہ کو لکھا کہ حسن بن ابوحسن سے پوچھو کہ ہم سے پہلے جو ائمہ تھے ان کو کس بات نے روکا تھا کہ وہ مجوسیوں میں ان کی ذی رحم عورتوں سے شادی کی صورت میں جدائی کروائیں؟ تو عدی نے حسن سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ نے بحرین کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا اور ان کو ان کے مذہب پر قائم رہنے دیا اور بحرین پر نبی ﷺ کے عامل علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ تھے، نبی ﷺ کے بعد ان کو ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ اس بات پر دال ہے کہ جب وہ اپنا فیصلہ ہمارے پاس لائیں تو پھر ہم فیصلہ قرآن کے مطابق کریں اور آیت تخییر کی منسوخی کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اثر منقول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ اس بات پر دال ہے کہ جب وہ اپنا فیصلہ ہمارے پاس لائیں تو پھر ہم فیصلہ قرآن کے مطابق کریں اور آیت تخییر کی منسوخی کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اثر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 17125
حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الصُّعْلُوكِيُّ إِمْلَاءً، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَغَيْرُهُ، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " آيَتَانِ نُسِخَتَا مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، يَعْنِي الْمَائِدَةَ: آيَةُ الْقَلَائِدِ، وَقَوْلُهُ: {فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ} [المائدة: ٤٢]، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَيَّرًا إِنْ شَاءَ حَكَمَ بَيْنَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ أَعْرَضَ عَنْهُمْ فَرَدَّهُمْ إِلَى حُكَّامِهِمْ، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَتْ {وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ} [المائدة: ٤٩]، قَالَ: فَأُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا فِي كِتَابِنَا " وَرَوَاهُ أَيْضًا عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْحُكْمِ، وَهُوَ قَوْلُ عِكْرِمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورہ مائدہ سے دو آیتیں منسوخ کی گئیں: ایک آیت القلائد یعنی ﴿فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 42] کہ نبی ﷺ کو اس میں اختیار دیا گیا تھا، چاہیں تو اس میں فیصلہ کر دیں، چاہیں تو نہ کریں اور ان کو ان کے حکام کی طرف لوٹا دیں۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ [سورة المائدة: 49] تو نبی ﷺ کو قرآن کے مطابق فیصلے کا حکم دیا گیا۔
حدیث نمبر: 17126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ: " {فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ}، قَالَ: نَسَخَتْهَا هَذِهِ الْآيَةُ: {وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ} [المائدة: ٤٩] ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 42] یہ آیت اس آیت سے منسوخ ہوئی: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾ [سورة المائدة: 49]۔