السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حد الذميين باب: ذمیوں (اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں) کی حد کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17121
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ وَكِيعٌ: عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ مُخَارِقٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، كَتَبَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ مُسْلِمٍ، زَنَى بِنَصْرَانِيَّةٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنْ أَقِمِ الْحَدَّ، عَلَى الْمُسْلِمِ، وَادْفَعِ النَّصْرَانِيَّةَ إِلَى أَهْلِ دِينِهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا عِنْدَكَ فَهُوَ يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّ الْإِمَامَ مُخَيَّرٌ فِي أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَوْ يَتْرُكَ الْحُكْمَ عَلَيْهِمْ، فَعُورِضَ بِحَدِيثِ بَجَالَةَ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ایک مسلمان نے ایک عیسائی عورت سے زنا کر لیا، تو آپ نے اسے جواب دیا کہ مسلمان پر حد قائم کر دو اور عورت کو اس کے دین والوں کی طرف لوٹا دو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے یا نہ کرنے میں اسے اختیار ہے۔