السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حد الذميين باب: ذمیوں (اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں) کی حد کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبَو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقُلْتُ لَهُ: بَجَالَةُ رَجُلٌ مَجْهُولٌ، وَلَيْسَ بِالْمَشْهُوَرِ، وَلَسْنَا نَحْتَجُّ بِرِوَايَةِ مَجْهُولٍ، وَلَا نَعْرِفُ أَنْ جَزِيَّ بْنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ عَلَيْهِ إِلَى أَنْ قَالَ: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ رَوَى عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُكْمَ بَيْنَهُمْ إِلَّا فِي الْمُوَادَعَيْنِ اللَّذَيْنِ رُجِمَا، وَلَا نَعْلَمُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ بَعْدَهُ إِلَّا مَا رَوَى بَجَالَةُ مِمَّا يُوَافِقُ حُكْمَ الْإِسْلَامِ، وَسِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِمَّا يُوَافِقُ قَوْلَنَا، فِي أَنَّهُ لَيْسَ لِلْإِمَامِ أَنْ ⦗٤٣٣⦘ يَحْكُمَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ، وَهَاتَانِ الرُّوَايَتَانِ، وَإِنْ لَمْ تُخَالِفْنَا، غَيْرُ مَعْرُوفَتَيْنِ عِنْدَنَا، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ لَا نَكُونَ مِمَّنْ تَدَعُوهُ الْحُجَّةُ عَلَى مَنْ خَالَفَهُ إِلَى قَبُولِ خَبَرِ مَنْ لَا يَثْبُتُ خَبَرُهُ بِمَعْرِفَتِهِ عِنْدَهُ كَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الْحُدُودِ، وَنَصَّ فِي كِتَابِ الْجِزْيَةِ عَلَى أَنْ لَيْسَ لِلْإِمَامِ الْخِيَارُ فِي أَحَدٍ مِنَ الْمُعَاهِدِينَ الَّذِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمُ الْحُكْمُ إِذَا جَاءُوهُ فِي حَدِّ اللهِ، وَعَلَيْهِ أَنْ يُقِيمَهُ، وَاحْتَجَّ بِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩]، قَالَ: فَكَانَ الصَّغَارُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنْ يَجْرِيَ عَلَيْهِمْ حُكْمُ الْإِسْلَامِ وَذَكَرَ فِي هَذَا الْكِتَابِ حَدِيثَ بَجَالَةَ فِي الْجِزْيَةِ وَقَالَ: حَدِيثُ بَجَالَةَ مُتَّصِلٌ ثَابِتٌ؛ لِأَنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ رَجُلًا فِي زَمَانِهِ كَاتِبًا لِعُمَّالِهِ، وَكَأَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ لَمْ يَقِفْ عَلَى حَالِ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ عَبْدَةَ، حِينَ صَنَّفَ كِتَابَ الْحُدُودِ، ثُمَّ وَقَفَ عَلَيْهِ حِينَ صَنَّفَ كِتَابَ الْجِزْيَةِ، إِنْ كَانَ صَنَّفَهُ بَعْدَهُ، وَحَدِيثُ بَجَالَةَ أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ فِيهِ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ، فَتَرَكَهُ مُسْلِمٌ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلٌ، وَقَابُوسُ بْنُ مُخَارِقٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ فِي كِتَابِ الْقَضَاءِ: وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِينَ عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ عَنِ الْحَسَنِ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں بجالہ بھی مجہول ہے اور جزی بن معاویہ، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عامل تھے، وہ کون تھے؟ یہ بھی پتا نہیں اور ہمیں یہ بھی پتا نہیں کہ یہود کے رجم والے فیصلے کے علاوہ کوئی اور فیصلہ بھی آپ ﷺ نے ان کے بارے میں کیا تھا؟ اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ایسی کوئی چیز ملتی ہے۔ ایسے ہی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی امام کے پاس اللہ کی حدود میں سے کوئی فیصلہ آ جائے تو اسے کوئی اختیار نہیں کہ وہ فیصلہ کرے یا نہ کرے بلکہ حد کو قائم کرے اور انہوں نے دلیل پکڑی ہے: ﴿حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ﴾ [سورة التوبة: 29]، تو صغار کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان پر اسلام کا حکم نافذ کیا جائے اور پھر کہتے ہیں کہ حدیثِ بجالہ متصل اور ثابت ہے اور بجالہ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عمال میں سے ہیں، تو پتا یہ چلتا ہے کہ جب امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الحدود لکھی تب بجالہ کے بارے میں نہیں جانتے تھے اور جب کتاب الجزیہ لکھی تو ان کے حالات سے واقف ہو گئے تھے۔ حدیثِ بجالہ کے بارے میں بخاری و مسلم میں بھی اختلاف ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کی روایت نہیں لی، امام بخاری رحمہ اللہ نے لی ہے۔