السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: من قال: يحبس ثلاثة أيام باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک (مرتد کو) تین دن قید رکھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16887
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ أَبِي مُوسَى، فَسَأَلَهُ عَنِ النَّاسِ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ كَانَ فِيكُمْ مِنْ مُغَرِّبَةِ خَبَرٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتُمْ بِهِ؟ قَالَ: قَرَّبْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَهَلَّا حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا، وَأَطْعَمْتُمُوهُ كُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا، وَاسْتَتَبْتُمُوهُ، لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ أَوْ يُرَاجِعَ أَمْرَ اللهِ، اللهُمَّ إِنِّي لَمْ أَحْضُرْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِي " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْكِتَابِ: مَنْ قَالَ: لَا يُتَأَنَّى بِهِ زَعَمَ أَنَّ الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ حَبَسْتُمُوهُ ثَلَاثًا، لَيْسَ بِثَابِتٍ؛ لِأَنَّهُ لَا يُعْلَمُ مُتَّصِلًا، وَإِنْ كَانَ ثَابِتًا كَانَ لَمْ يُجْعَلْ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ قَبْلَ ثَلَاثٍ شَيْئًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ رُوِيَ فِي التَّأَنِّي بِهِ حَدِيثٌ آخَرُ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبد القاری کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے کچھ لوگوں کے بارے میں سوال کیا، پھر فرمایا: کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی عجیب خبر ہے؟ اس نے کہا: ہاں، ایک شخص نے اسلام لانے کے بعد کفر کر لیا۔ پوچھا: پھر تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے کہا: ہم نے اسے قتل کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے اسے تین دن قید کیوں نہ کیا، اسے کھلاتے پلاتے اور اس پر اسلام پیش کرتے شاید وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آتا۔ اے اللہ! نہ میں حاضر تھا، نہ میں نے اس کا حکم دیا اور نہ میں اس پر راضی ہوں۔