السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلَيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِنَّ أُنَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بِالْوَحْيِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الْآنَ بِمَا ظَهَرَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا أَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاهُ، وَلَيْسَ إِلَيْنَا مِنْ سَرِيرَتِهِ شَيْءٌ، اللهُ يُحَاسِبُهُ فِي سَرِيرَتِهِ، وَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ، وَإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِيرَتِي حَسَنَةٌ ⦗٣٥٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عہدِ رسالت ﷺ میں لوگ وحی کے ذریعے پکڑے جاتے تھے، اب وحی منقطع ہو گئی ہے، اب ہم ظاہری اعمال سے پکڑتے ہیں، جس کے ظاہری اعمال اچھے ہیں ہم اس پر یقین کر لیتے ہیں اور اندرونی معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، اور جس کے ظاہری اعمال برے ہیں ہم ان پر یقین کرتے ہیں چاہے وہ کہے کہ میرا باطن اچھا ہے۔