السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16851
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَجُلٍ أَظْهَرَ الْإِسْلَامَ كَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ: " إِنِّي لَأَحْسَبُكَ مُتَعَوِّذًا " فَقَالَ: إِنَّ فِي الْإِسْلَامِ مَا أَعَاذَنِي، قَالَ: " أَجَلْ، إِنَّ فِي الْإِسْلَامِ مَا أَعَاذَ مَنِ اسْتَعَاذَ بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کہا جس کا اسلام ظاہر تھا اور اس سے پہچانا جا رہا تھا: میں گمان کرتا ہوں کہ تو بچنے والا ہے، تو اس نے کہا: اسلام نے مجھے نہیں بچایا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! اسلام اسے ہی بچاتا ہے جو اس کے ساتھ بچنا چاہے۔