کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ بِمَرْوَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ إِحْدَى يَدِيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْتُلْهُ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدِيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَمَا قَطَعَهَا أَفَأَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقداد بن عمرو کندی بدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: ”میں کسی آدمی سے جنگ میں مدمقابل ہوتا ہوں، وہ میرا ہاتھ کاٹ دے اور پھر درخت کی آڑ لے کر اسلام قبول کر لے تو کیا میں اسے قتل کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے پھر کہا: ”اے اللہ کے نبی! اس نے میرا ہاتھ کاٹا ہے، کیا میں اسے قتل کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو قتل کرنے سے پہلے جس مقام پر تو تھا، وہ مقام اسے مل جائے گا اور اس کی جگہ تو ہو جائے گا جہاں وہ کلمہ حق کہنے سے پہلے تھا۔“
حدیث نمبر: 16824
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٣٤٠⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ فَنَذِرُوا فَهَرَبُوا، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ، فَعَرَضَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ وَالْقَتْلِ، قَالَ: " أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ قَالَهَا مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَوْ لَا؟ مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ "، قَالَ: فَمَا زَالَ يَقُولُ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، قَالَ أَبُو ظَبْيَانَ: قَالَ سَعْدٌ: وَأَنَّا وَاللهِ لَا أَقْتُلُهُ حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ، يَعْنِي أُسَامَةَ، قَالَ رَجُلٌ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} [البقرة: ١٩٣]، قَالَ سَعْدٌ: قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، وَأَنْتَ وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ هُشَيْمٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
یہ پہلے حدیث نمبر 16804 کے تحت گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 16825
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ رَجُلًا سَارَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَدْرِ مَا سَارَّهُ بِهِ حَتَّى جَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْمِرُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ " قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: " أَلَيْسَ يُصَلِّي؟ " قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللهُ عَنْهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا۔ یہ نہیں پتہ کیا کہہ رہا تھا۔ جب نبی ﷺ نے خود ظاہر کیا کہ وہ منافقین کو قتل کرنے کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ کلمہ نہیں پڑھتے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے پوچھا: ”نماز نہیں پڑھتے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ تو نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو قتل کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 16826
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، " ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِيٍّ، حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي أَنْ يُسَارَّهُ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ " قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ قَالَ: " أَلَيْسَ يُصَلِّي؟ " قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَا صَلَاةَ لَهُ، قَالَ: " أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْهُمْ " ⦗٣٤١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْتَأْذِنَ فِي قَتْلِ الْمُنَافِقِ إِذْ أَظْهَرَ الْإِسْلَامَ أَنَّ اللهَ نَهَاهُ عَنْ قَتْلِهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقِ اللهَ فِي الْقِسْمَةِ الَّتِي قَسَمَهَا، وَاسْتِئْذَانِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فِي قَتْلِهِ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، لَعَلَّهُ يَكُونُ يُصَلِّي "، قَالَ خَالِدٌ: وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أُؤْمَرْ أَنْ أُنَقِّبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ منافقین جن کا اسلام ظاہر ہو ان کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا جو قصہ ہے کہ نبی ﷺ جب مال تقسیم کر رہے تھے تو ایک شخص نے کہا تھا: ”انصاف کر“، اس کے بارے میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تھی کہ میں قتل کر دوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”نہیں شاید یہ نماز پڑھتا ہے“ اور ”کتنے ہی نمازی ایسے ہیں جو زبان سے کچھ کہتے ہیں، دل میں کچھ ہوتا ہے“ اور نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل کھول کر دیکھوں یا ان کے پیٹ پھاڑوں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ منافقین جن کا اسلام ظاہر ہو ان کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا جو قصہ ہے کہ نبی ﷺ جب مال تقسیم کر رہے تھے تو ایک شخص نے کہا تھا: ”انصاف کر“، اس کے بارے میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تھی کہ میں قتل کر دوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”نہیں شاید یہ نماز پڑھتا ہے“ اور ”کتنے ہی نمازی ایسے ہیں جو زبان سے کچھ کہتے ہیں، دل میں کچھ ہوتا ہے“ اور نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل کھول کر دیکھوں یا ان کے پیٹ پھاڑوں۔“
حدیث نمبر: 16827
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ کلمہ شہادت کی گواہی دیں۔ جب انہوں نے یہ کہہ دیا تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال کو بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“
حدیث نمبر: 16828
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " ثُمَّ قَرَأَ: " (إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ) " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَاعْلَمْ أَنَّ حُكْمَهُمْ فِي الظَّاهِرِ أَنْ تُمْنَعَ دِمَاؤُهُمْ بِإِظْهَارِ الْإِيمَانِ، وَحِسَابُهُمْ فِي الْمَغيبِ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: وَقَدْ آمَنَ بَعْضُ النَّاسِ ثُمَّ ارْتَدَّ ثُمَّ أَظْهَرَ الْإِيمَانَ فَلَمْ يَقْتُلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَتَلَ مِنَ الْمُرْتَدِّينَ مَنْ لَمْ يُظْهِرِ الْإِيمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سابقہ روایت
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جان لو کہ جس کا ایمان ظاہر ہو جائے، اس کا خون معاف ہے اور ان کے اندرونی حالات اللہ کے ذمے ہیں۔ بعض لوگ ایمان لے آئے، پھر مرتد ہو گئے اور پھر مسلمان ہو گئے تو ان کو نبی ﷺ نے قتل نہیں کیا۔ قتل ان مرتدین کو کیا جن کے ایمان ظاہر نہیں ہوئے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جان لو کہ جس کا ایمان ظاہر ہو جائے، اس کا خون معاف ہے اور ان کے اندرونی حالات اللہ کے ذمے ہیں۔ بعض لوگ ایمان لے آئے، پھر مرتد ہو گئے اور پھر مسلمان ہو گئے تو ان کو نبی ﷺ نے قتل نہیں کیا۔ قتل ان مرتدین کو کیا جن کے ایمان ظاہر نہیں ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 16829
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، ثنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ يَكْتُبُ ⦗٣٤٢⦘ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ، فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی سرح کاتبِ رسول ﷺ تھا۔ شیطان نے اسے گمراہ کر دیا، وہ کفار سے جا ملا تو نبی ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے پناہ طلب کی تو آپ ﷺ نے دے دی۔
حدیث نمبر: 16830
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " ارْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {كَيْفَ يَهْدِي اللهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانَهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ} [آل عمران: ٨٦] إِلَى قَوْلِهِ: {إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا} [البقرة: ١٦٠]، قَالَ: فَكَتَبَ بِهَا قَوْمُهُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قُرِئَتْ عَلَيْهِ قَالَ: وَاللهِ مَا كَذَبَنِي قَوْمِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا كَذَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَاللهُ أَصْدَقُ الثَّلَاثَةِ، قَالَ: فَرَجَعَ تَائِبًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبِلَ ذَلِكَ مِنْهُ وَخَلَّى سَبِيلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک انصاری مرتد ہو گیا اور مشرکین سے جا ملا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 86]، تو اس کی قوم نے اس کو یہ لکھ کر بھیجی تو وہ کہنے لگا: واللہ! نہ میری قوم نے جھوٹ بولا ہے اور نہ نبی ﷺ نے اللہ پر جھوٹ بولا ہے اور اللہ تو تینوں میں سب سے سچا ہے، تو وہ واپس آ گیا اور توبہ کر لی تو نبی ﷺ نے اس کو معاف کر دیا۔
حدیث نمبر: 16831
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْبَصْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُعَدِّلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ، فَمَرَّ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّا نَكِلُ نَاسًا إِلَى إِيمَانِهِمْ، مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ " قَالَ: فَأَقْطَعَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَرْضًا بِالْبَحْرَيْنِ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُحَمَّدٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ، وَحَلِيفًا لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ، مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دے دیا تھا۔ یہ ابوسفیان کے مددگار تھے۔ ایک مجلسِ انصار سے گزرے تو کہا: ”میں مسلمان ہوں“، جب یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جن لوگوں کے ایمان نے ہمیں روکے رکھا ان میں ایک فرات بن حیان بھی ہیں“ اور فرمایا: ”ان کو بحرین میں ایک زمین کا ٹکڑا بھی دے دیا گیا“۔
حدیث نمبر: 16832
وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثِةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّ فُرَاتَ بْنَ حَيَّانَ ارْتَدَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ قَتْلَهُ، فَشَهِدَ شَهَادَةَ الْحَقِّ، فَخَلَّى عَنْهُ، وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ، فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسَوَاءٌ كَثُرَ ذَلِكَ مِنْهُ حَتَّى يَكُونَ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ فِي حَقْنِ الدَّمِ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“
حدیث نمبر: 16833
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ⦗٣٤٣⦘ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَتَابَ نَبْهَانَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، وَكَانَ نَبْهَانُ ارْتَدَّ " قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ: عَنْ رَجُلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْمُرْتَدُّ يُسْتَتَابُ أَبَدًا كُلَّمَا رَجَعَ " قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَقَالَ لِي مَالِكٌ ذَلِكَ: " إِنَّهُ يُسْتَتَابُ كُلَّمَا رَجَعَ " هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا، وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنہان کی چار مرتبہ توبہ قبول کی اور بنہان مرتد ہوا تھا۔ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مرتد جتنی بار بھی رجوع کرلے قبول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي الْيَمَانِ أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ: " هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ " فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ، حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ فَأَثْبَتَتْهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي ذَكَرْتَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، قَدْ وَاللهِ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ، وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " وَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهَا سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهَا، فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ صَدَّقَ اللهُ حَدِيثَكَ، قَدِ امْتُحِنَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بِلَالُ قُمْ فَأَذِّنْ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَإِنَّ اللهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ يَمْنَعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَقَرَّ عِنْدَهُ مِنْ نِفَاقٍهِ، وَعَلِمَ أَنْ كَانَ عِلْمُهُ مِنَ اللهِ فِيهِ مِنْ أَنَّ حَقْنَ دَمِهِ بِإِظْهَارِ الْإِيمَانِ وَقَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي مِثْلِ هَذَا مَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم خیبر میں نبی ﷺ کے ساتھ حاضر ہوئے تو اسلام کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ آگ میں ہے“، جب جنگ شروع ہوئی تو وہ بڑی جوانمردی سے لڑا تو لوگوں نے اس کی جرأت دیکھ کر نبی ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! جس کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے وہ تو بڑی بہادری سے لڑا ہے اور بہت زخمی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جہنمی ہے“ تو لوگ شک میں پڑ گئے تو انہوں نے دیکھا: اس شخص نے جو سخت زخمی تھا، اپنا تیر نکالا اور اس سے اپنے آپ کو قتل کر دیا تو مسلمان لوگ نبی ﷺ کے پاس جلدی سے آئے اور کہنے لگے: اللہ نے آپ کی بات سچ ثابت کر دی یا رسول اللہ! اللہ نے اسے آزمایا، اس نے اپنے آپ کو قتل کر دیا تو آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ ”جنت میں صرف مومن جائے گا اور اللہ نے اپنے دین کی مدد ایک فاجر آدمی کے ذریعے فرمائی۔“
حدیث نمبر: 16835
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: عُدْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَوْعُوكًا، قَالَ: فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَشَدَّ حَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشَدِّ حَرًّا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ هَذَيْنِكَ الرَّجُلَيْنِ الْمُقَفِّيَيْنِ " لِرَجُلَيْنِ حِينَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ⦗٣٤٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبَّاسٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: الرَّجُلَيْنِ الرَّاكِبَيْنِ الْمُقَفِّيَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک تڑپتے ہوئے آدمی کی نبی ﷺ کے ساتھ عیادت کی۔ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے اوپر ہاتھ رکھا، میں نے کہا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں نے آج تک اتنا گرم آدمی نہیں دیکھا، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس سے بھی گرم قیامت کے دن کے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ دو آدمی جو غبار میں اٹے ہوئے ہیں“ اور ان دو آدمیوں کی طرف اشارہ کیا جو اس دن آپ کے اصحاب میں سے تھے۔
حدیث نمبر: 16836
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ: أَرَأَيْتُمْ صُنْعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ، أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَلَكِنَّ حُذَيْفَةَ أَخْبَرَنِي، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، مِنْهُمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيهُمُ الدُّبَيْلَةُ "، وَأَرْبَعَةٌ لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ، وَرَوَاهُ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ فَقَالَ: " ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيهُمُ الدُّبَيْلَةُ، سِرَاجٌ مِنَ النَّارِ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ مِنْ صُدُورِهِمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَلَعَلَّ مَنْ سَمَّيْتَ لَمْ يُظْهِرْ شِرْكًا سَمِعهُ مِنْهُ آدَمِيٌّ، وَإِنَّمَا أَخْبَرَ اللهُ عَنْ أَسْرَارِهِمْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَقَدْ سُمِعَ مِنْ عَدَدٍ مِنْهُمُ الشِّرْكُ، وَشُهِدَ بِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنْهُمْ مَنْ جَحَدَهُ وَشَهِدَ شَهَادَةَ الْحَقِّ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا أَظْهَرَ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَقَرَّ بِمَا شُهِدَ بِهِ عَلَيْهِ وَقَالَ: تُبْتُ إِلَى اللهِ وَشَهِدَ شَهَادَةَ الْحَقِّ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا أَظْهَرَ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن عباد کہتے ہیں: میں نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: جو آپ نے علی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کیا اسے آپ کیسا دیکھتے ہیں؟ کیا یہ آپ کی رائے تھی یا نبی کریم ﷺ کا کوئی عہد؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے ہم سے کوئی خاص عہد نہیں لیا، آپ ﷺ کا عہد سب کے لیے تھا، لیکن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی کریم ﷺ سے ایک حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ میں ١٢ منافق ہوں گے، ٨ ان میں سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر جائے ﴿حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ [سورة الأعراف: 40] اور ان آٹھ کو بڑی مصیبتیں کافی ہیں۔“ اور باقی ٤ کو شعبہ نے کیا کیا بتایا مجھے یاد نہیں۔
حدیث نمبر: 16837
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " شَهِدْتُ مِنْ نِفَاقِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ثَلَاثَ مَجَالِسَ ".
حافظ ثناء اللہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تین مجالس میں عبداللہ بن ابی کے نفاق کا مشاہدہ کیا۔
حدیث نمبر: 16838
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ، ⦗٣٤٥⦘ وَقَالَ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَبَعَثَنِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ بِاللهِ مَا فَعَلَ، قَالَ: فَقَالُوا: كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا قَالُوا، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقِي فِي {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} [المنافقون: ١]، قَالَ: وَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ، فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ، وَقَوْلُهُ: {كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ} [المنافقون: ٤]، قَالَ: كَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْءٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زُهَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے، لوگوں کو اس میں بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا: ”جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، ان پر تم خرچ نہ کرنا یہاں تک کہ وہ آپ کے ارد گرد سے ہٹ جائیں“ اور ”ہم مدینہ جا کر اس سے ان ذلیلوں کو نکال دیں گے۔ ہم عزت والے ہیں“ تو میں نے یہ سنا اور جا کر نبی کریم ﷺ کو بتا دیا۔ آپ ﷺ نے اسے بلا کر پوچھا تو اس نے قسم اٹھا دی کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کہا، تو لوگ کہنے لگے: زید نے نبی کریم ﷺ سے جھوٹ بولا ہے، تو میرے دل میں جو انہوں نے کہا تھا خیال آیا، تو اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں ﴿سورة المنافقون﴾ نازل فرما دی، تو نبی کریم ﷺ نے ان کو بلایا اور فرمایا: ”آؤ تمہارے لیے دعائے مغفرت کر دوں“ تو انہوں نے اپنے سر پھیر لیے۔ یہ لوگ بہت خوبصورت تھے۔
حدیث نمبر: 16839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ تَبُوكَ، وَمَا كَانَ عَلَى الثَّنِيَّةِ مِنْ هَمِّ الْمُنَافِقِينَ أَنْ يَرْجُمُوا فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا كَانَ مِنْ أَقْوَالِهِمْ وَإِطْلَاعِ اللهِ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَسْرَارِهِمْ، قَالَ: فَانْحَدَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الثَّنِيَّةِ وَقَالَ لِصَاحِبَيْهِ، يَعْنِي حُذَيْفَةَ وَعَمَّارًا: " هَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ " قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَادُوا أَنْ يَرْجُمُونِي فِي الثَّنِيَّةِ، فَيَطْرَحُونِي مِنْهَا " فَقَالَا: أَفَلَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ إِذَا اجْتَمَعَ إِلَيْكَ النَّاسُ؟ فَقَالَ: " أَكْرَهُ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ يَدَهُ فِي أَصْحَابِهِ يَقْتُلُهُمْ " ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي دُعَائِهِ إِيَّاهُمْ، وَإِخْبَارِهِ إِيَّاهُمْ بِسَرَائِرِهِمْ، وَاعْتِرَافِ بَعْضِهِمْ وَتَوْبَتِهِمْ، وَقَبُولِهِ مِنْهُمْ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ حُصَيْنَ بْنَ نُمَيْرٍ فَقَالَ لَهُ: " وَيْحَكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ " قَالَ: حَمَلَنِي عَلَيْهِ أَنِّي ظَنَنْتُ أَنَّ اللهَ لَمْ يُطْلِعْكَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا إِذْ أَطْلَعْكَ اللهُ عَلَيْهِ وَعَلِمْتَهُ فَإِنِّي أَشْهَدُ الْيَوْمَ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، وَأَنِّي لَمْ أُؤْمِنْ بِكَ قَطُّ قَبْلَ السَّاعَةِ يَقِينًا، فَأَقَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَثْرَتَهُ، وَعَفَا عَنْهُ بِقَوْلِهِ الَّذِي قَالَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق قصہ تبوک کے بارے میں کہتے ہیں: ثنیہ مقام پر منافقین نے نبی ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس سے باخبر کر دیا تو آپ ﷺ ثنیہ مقام سے ہٹ گئے اور اپنے دو ساتھیوں حذیفہ اور عمار رضی اللہ عنہما سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو قوم نے کیا ارادہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے ثنیہ میں مجھے مارنے کا ارادہ کیا“ تو دونوں کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! جب لوگ آپ کے پاس وہاں جمع ہو رہے تھے، آپ ہمیں حکم کرتے، ہم ان کو قتل کر دیتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اچھا نہیں لگا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کروا رہا ہے۔“
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ پھر حصین بن نمیر کو بلایا گیا اور اسے کہا گیا: تو برباد ہو، تو ایسا کیوں کر رہا تھا؟ کہنے لگا: واللہ! مجھے یقین تھا آپ ﷺ کو پتہ نہیں چلے گا لیکن اللہ نے آپ ﷺ کو اطلاع دے دی اور مجھے پتہ چل گیا اور میں آج گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کبھی آپ پر ایمان نہ لاتا، تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ پھر حصین بن نمیر کو بلایا گیا اور اسے کہا گیا: تو برباد ہو، تو ایسا کیوں کر رہا تھا؟ کہنے لگا: واللہ! مجھے یقین تھا آپ ﷺ کو پتہ نہیں چلے گا لیکن اللہ نے آپ ﷺ کو اطلاع دے دی اور مجھے پتہ چل گیا اور میں آج گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کبھی آپ پر ایمان نہ لاتا، تو آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا۔
حدیث نمبر: 16840
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ هُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَبَّاسٌ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: وَقَفَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ، وَنَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: " لَقَدْ نَزَلَ النِّفَاقُ عَلَى مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ يَكُونُ هَذَا وَاللهُ يَقُولُ: {إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ} [النساء: ١٤٥]؟ قَالَ: فَلَمَّا تَفَرَّقُوا فَلَمْ يَبْقَ غَيْرِي رَمَانِي بِحَصَاةٍ فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَمَّا تَابُوا كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ⦗٣٤٦⦘ مِنْ قَوْلِ حُذَيْفَةَ: عَجِبْتُ مِنْ ضَحِكِهِ، يَعْنِي ضَحِكَ عَبْدِ اللهِ، وَقَدْ عَرَفَ مَا قُلْتُ: لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقَ عَلَى قَوْمٍ كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ، ثُمَّ تَابُوا فَتَابَ اللهُ عَلَيْهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہم پر کھڑے ہوئے اور ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”نفاق تم سے بہتر پر نازل ہوا۔“ ہم نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ تو فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ﴾ [سورة النساء: 145]۔ انہوں نے فرمایا: جب سب جدا جدا ہو گئے اور میرے علاوہ کوئی نہ بچا تو انہوں نے فرمایا: ”جب وہ توبہ کر لیں تو وہ تم سے بہتر ہو گئے۔“ اور مجھے کنکری سے مارا۔
حدیث نمبر: 16841
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ فَمَرَّ بِنَا حُذَيْفَةُ فَقَالَ: " لَقَدْ نَزَلَ النِّفَاقُ عَلَى مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ " فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللهِ فَضَحِكَ عَبْدُ اللهِ وَمَضَى، فَمَرَّ بِنَا حُذَيْفَةُ فَرَمَانِي بِالْحَصْبَاءِ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " إِنَّ صَاحِبَكُمْ عَلِمَ عِلْمًا فَضَحِكَ، نَزَلَ عَلَيْهِمُ النِّفَاقُ ثُمَّ تِيبَ عَلَيْهِمْ " وَأَمَّا قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُنَافِقِينَ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا} [التوبة: ٨٤]، فَسَبَبُ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”پہلے گزر چکی ہے۔“
حدیث نمبر: 16842
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ مَاتَ أَبُوهُ فَقَالَ: أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ، وَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَأَسْتَغْفِرَ لَهُ، فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ: " إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي " فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَاءَهُ عُمَرُ وَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكَ اللهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ؟ قَالَ: " أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، قَالَ: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ} [التوبة: ٨٠] " قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: ٨٤]، قَالَ: فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کا بیٹا نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اپنی قمیض عطا فرمائیں تاکہ اس میں میں اسے کفن دوں اور آپ اس پر نماز پڑھیں اور میرے والد کے لیے بخشش کی دعا کریں۔ آپ ﷺ نے اس کو اپنی قمیض دے دی اور فرمایا: ”جب کفن سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“ جب نماز کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو منافق پر نماز سے روکا نہیں گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80]“ تو آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی تو یہ آیت نازل ہو گئی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] تو آپ ﷺ نے نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی۔
حدیث نمبر: 16843
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَكَذَا وَكَذَا؟ ⦗٣٤٧⦘ أُعَدِّدُ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ " فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ: " إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ، لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي إِنْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا " فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَتَانِ فِي بَرَاءَةَ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ} [التوبة: ٨٤]، قَالَ: فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَهَذَا يُبَيِّنُ مَا قُلْنَا، فَأَمَّا أَمْرُهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ صَلَاتَهُ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مُخَالِفَةٌ صَلَاةَ غَيْرِهِ، وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَضَى إِذْ أَمَرَهُ بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ، وَقَضَى أَنْ لَا يَغْفِرَ لِمُقِيمٍ عَلَى شِرْكٍ، فَنَهَاهُ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ لَا يُغْفَرُ لَهُ، وَلَمْ يَمْنَعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ مُسْلِمًا، وَلَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ بَعْدَ هَذَا أَحَدًا، وَتَرْكُ الصَّلَاةِ مُبَاحٌ عَلَى مَنْ قَامَتْ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَدْ عَاشَرَهُمْ حُذَيْفَةُ يَعْرِفُهُمْ بِأَعْيَانِهِمْ، ثُمَّ عَاشَرَهُمْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُمْ يُصَلَّى عَلَيْهِمْ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا وُضِعَتْ جِنَازَةٌ فَرَأَى حُذَيْفَةَ، فَإِنْ أَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اجْلِسْ جَلَسَ، وَإِنْ قَامَ مَعَهُ صَلَّى عَلَيْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَلَمْ يَمْنَعْ هُوَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ قَبْلَهُ وَلَا عُثْمَانُ بَعْدَهُ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ، وَلَا شَيْئًا مِنْ أَحْكَامِ الْإِسْلَامِ، وَقَدْ أَعَلَمَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تُوُفِّيَ اشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سابقہ روایت
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے قول کو واضح کرتی ہے کہ ان پر نماز نہ پڑھی جائے اور مجھے امید ہے کہ آپ ﷺ کو اس لیے ان پر نماز سے روکا گیا ہے کہ آپ ﷺ جس پر بھی نماز پڑھیں اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور جو شرک پر قائم ہو اس کی بخشش بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر نماز سے آپ ﷺ کو روک دیا گیا، لیکن نبی ﷺ نے مسلمانوں کو نہیں روکا۔ مسلمان ان پر نمازیں پڑھتے تھے۔ حضرت حذیفہ، عمر اور ابوبکر رضی اللہ عنہم تمام پڑھتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تو جو بھی جنازہ رکھا جاتا وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے۔ اگر وہ انکار کر دیتے تو نہ پڑھاتے، اگر ساتھ کھڑے ہو جاتے تو پڑھا دیتے۔ نہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روکا اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ان پر نماز سے روکا اور نہ ہی ایسی کوئی چیز اسلام کے احکام سے ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے قول کو واضح کرتی ہے کہ ان پر نماز نہ پڑھی جائے اور مجھے امید ہے کہ آپ ﷺ کو اس لیے ان پر نماز سے روکا گیا ہے کہ آپ ﷺ جس پر بھی نماز پڑھیں اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور جو شرک پر قائم ہو اس کی بخشش بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر نماز سے آپ ﷺ کو روک دیا گیا، لیکن نبی ﷺ نے مسلمانوں کو نہیں روکا۔ مسلمان ان پر نمازیں پڑھتے تھے۔ حضرت حذیفہ، عمر اور ابوبکر رضی اللہ عنہم تمام پڑھتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تو جو بھی جنازہ رکھا جاتا وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے۔ اگر وہ انکار کر دیتے تو نہ پڑھاتے، اگر ساتھ کھڑے ہو جاتے تو پڑھا دیتے۔ نہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روکا اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ان پر نماز سے روکا اور نہ ہی ایسی کوئی چیز اسلام کے احکام سے ہے۔
حدیث نمبر: 16844
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي قِصَّةِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِرٌ إِلَى تَبُوكَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ لَيُوحَى إِلَيْهِ، وَأَنَاخَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَضَتِ النَّاقَةُ تَجُرُّ زِمَامَهَا مُنْطَلِقَةً، فَتَلَقَّاهَا حُذَيْفَةُ فَأَخَذَ بِزِمَامِهَا يَقُودُهَا حَتَّى أَنَاخَهَا وَقَعَدَ عِنْدَهَا، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ إِلَى نَاقَتِهِ فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " فَقَالَ: حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي مُسِرٌّ إِلَيْكَ سِرًّا لَا تُحَدِّثَنَّ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا، إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ "، رَهْطٍ ذَوِي عَدَدٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ يَظُنُّ عُمَرُ أَنَّهُ مِنْ أُولَئِكِ الرَّهْطِ أَخَذَ بِيَدِ حُذَيْفَةَ فَقَادَهُ، فَإِنْ مَشَى مَعَهُ صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنِ انْتَزَعَ مِنْ يَدِهِ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ مَنْ يُصَلِّي عَلَيْهِ ⦗٣٤٨⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تبوک کی طرف گئے تھے، آپ ﷺ سواری سے اتر گئے تاکہ آپ کی طرف وحی کی جائے تو اونٹنی نے اٹھ کر بھاگنا چاہا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام کو پکڑ لیا اور اس کے پاس بیٹھ گئے، جب نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے تو اونٹنی کی طرف آئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حذیفہ بن یمان، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک راز بتاتا ہوں، کسی کو نہ بتانا کہ مجھے فلاں فلاں پر (نمازِ جنازہ) پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے،“ پس جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہو گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ رکھتے، جس (کے جنازے) کے متعلق سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ انکار کر دیتے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 16845
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَزَا تَبُوكَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ وَرَاحِلَتُهُ بَارِكَةٌ، فَقَامَتْ تَجُرُّ زِمَامَهَا حَتَّى لَقِيَهَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَأَخَذَ بِزِمَامِهَا فَاقْتَادَهَا حَتَّى رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَأَنَاخَهَا ثُمَّ جَلَسَ عِنْدَهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " فَقَالَ: حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي أُسِرُّ إِلَيْكَ أَمْرًا فَلَا تَذْكُرَنَّهُ، إِنِّي قَدْ نُهِيتُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ " رَهْطٍ ذَوِي عَدَدٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، لَمْ يُعْلِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرَهُمْ لِأَحَدٍ غَيْرِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ يَظُنُّ أَنَّهُ مِنْ أُولَئِكِ الرِّهْطِ أَخَذَ بِيَدِ حُذَيْفَةَ فَاقْتَادَهُ إِلَى الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَإِنْ مَشَى مَعَهُ حُذَيْفَةُ صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنِ انْتَزَعَ حُذَيْفَةُ يَدَهُ فَأَبَى أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ انْصَرَفَ عُمَرُ مَعَهُ فَأَبَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُصَلَّى عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ جب غزوہ تبوک میں تھے تو آپ پر وحی کا نزول ہوا۔۔۔ آگے سابقہ روایت۔
حدیث نمبر: 16846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: " مَا بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ هَذِهِ الْآيَةِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ " أَظُنُّهُ أَرَادَ قَوْلَهُ: {فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ} [التوبة: ١٢]، قَالَ: " وَمَا بَقِيَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ " قَالَ: وَخَلْفَنَا أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَعْشَرَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَدْرُونَ مَا لَا نَدْرِي، تَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ، فَمَا بَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَنْقُرُونَ بُيُوتَنَا تَحْتَ اللَّيْلِ؟ قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أُولَئِكَ الْفُسَّاقُ، أَجَلْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ، إِنَّ أَحَدَهُمْ لَشَيْخٌ كَبِيرٌ لَوْ شَرِبَ الْمَاءَ الْبَارِدَ مَا وَجَدَ بَرْدَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَأَظُنُّهُ أَرَادَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ الَّذِينَ سَمَّاهُمْ لَهُ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے صرف تین بچے ہیں، گویا آپ کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا ﴿فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 12] اور فرمایا: منافقین سے صرف چار بچے ہیں۔ کہتے ہیں: ہمارے پیچھے ایک دیہاتی بیٹھا تھا، وہ کہنے لگا: تم صحابہ کی جماعت ہو تم جانتے ہو، ہم نہیں جانتے؛ تمہارا خیال ہے کہ صرف چار منافق بچے ہیں تو وہ کون ہیں جو راتوں کو ہمارے گھروں کا شیرازہ بکھیرتے ہیں؟ تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: وہ فاسق ہیں اور منافقین میں سے چار ہی بچے ہیں، ان میں سے ایک بہت بوڑھا ہے کہ اگر وہ ٹھنڈا پانی بھی پیے تو اس ٹھنڈک کو نہیں پا سکتا۔
حدیث نمبر: 16847
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ ⦗٣٤٩⦘ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ شَرٌّ مِنْهُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانُوا يَوْمَئِذٍ يَكْتُمُونَهُ، وَهُمُ الْيَوْمَ يَجْهَرُونُهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آج کے منافق عہدِ رسالت ﷺ کے منافقین سے بھی برے ہیں، وہ اپنے نفاق کو چھپاتے تھے اور یہ ظاہر کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 16848
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ، فَلَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِياتِ مَا نَزَلَ بِأَبِي لَهَاضَهَا، فَوَاللهِ مَا اخْتَلَفُوا فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِحَظِّهَا وَغَنَائِهَا فِي الْإِسْلَامِ، وَكَانَتْ تَقُولُ مَعَ هَذَا: وَمَنْ رَأَى ابْنَ الْخَطَّابِ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ غَنَاءَ الْإِسْلَامِ، كَانَ وَاللهِ أَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدَهُ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ فوت ہو گئے تو عرب مرتد ہو گئے اور مدینہ میں نفاق پھیل گیا۔ اگر وہ مصیبتیں جو میرے والد پر نازل ہوئیں، پہاڑوں پر نازل ہوتیں تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ واللہ! جو بھی اسلام پر حملہ ہوا میرے والد نے اس کا دفاع کیا اور وہ فرماتی تھیں کہ وہ پیدا ہی اسلام کے دفاع کے لیے ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 16849
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ " أَنْ يَدْعُوَهُمْ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، وَيُنَبِّئَهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ فِيهِ وَعَلَيْهِمْ، وَيَحْرِصَ عَلَى هُدَاهُمْ، فَمَنْ أَجَابَهُ مِنَ النَّاسِ كُلِّهِمْ، أَحْمَرِهِمْ وَأَسْوَدِهِمْ، كَانَ يَقْبَلُ ذَلِكَ مِنْهُ، بِأَنَّهُ إِنَّمَا يُقَاتِلُ مَنْ كَفَرَ بِاللهِ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللهِ، فَإِذَا أَجَابَ الْمَدْعُوُّ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَصَدَقَ إِيمَانُهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ سَبِيلٌ، وَكَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ حَسِيبَهُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْهُ إِلَى مَا دَعَاهُ إِلَيْهِ مِنَ الْإِسْلَامِ مِمَّنْ يَرْجِعُ عَنْهُ أَنْ يَقْتُلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو مرتدین کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا تو فرمایا: انہیں پہلے اسلام کی دعوت دینا، انہیں احساس دلانا اور ان کی ہدایت کی کوشش کرنا اور جو سمجھ جائے واپس لوٹ آئے اس سے قبول کرنا۔ لڑنا ان کے خلاف جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں اور جو اسلام قبول کر لے تو اس کا راستہ چھوڑ دینا، ان کا حساب اللہ پر ہے اور جو نہ مانے اس سے قتال کرنا۔
حدیث نمبر: 16850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلَيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِنَّ أُنَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بِالْوَحْيِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الْآنَ بِمَا ظَهَرَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا أَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاهُ، وَلَيْسَ إِلَيْنَا مِنْ سَرِيرَتِهِ شَيْءٌ، اللهُ يُحَاسِبُهُ فِي سَرِيرَتِهِ، وَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ، وَإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِيرَتِي حَسَنَةٌ ⦗٣٥٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عہدِ رسالت ﷺ میں لوگ وحی کے ذریعے پکڑے جاتے تھے، اب وحی منقطع ہو گئی ہے، اب ہم ظاہری اعمال سے پکڑتے ہیں، جس کے ظاہری اعمال اچھے ہیں ہم اس پر یقین کر لیتے ہیں اور اندرونی معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، اور جس کے ظاہری اعمال برے ہیں ہم ان پر یقین کرتے ہیں چاہے وہ کہے کہ میرا باطن اچھا ہے۔
حدیث نمبر: 16851
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَجُلٍ أَظْهَرَ الْإِسْلَامَ كَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ: " إِنِّي لَأَحْسَبُكَ مُتَعَوِّذًا " فَقَالَ: إِنَّ فِي الْإِسْلَامِ مَا أَعَاذَنِي، قَالَ: " أَجَلْ، إِنَّ فِي الْإِسْلَامِ مَا أَعَاذَ مَنِ اسْتَعَاذَ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کہا جس کا اسلام ظاہر تھا اور اس سے پہچانا جا رہا تھا: میں گمان کرتا ہوں کہ تو بچنے والا ہے، تو اس نے کہا: اسلام نے مجھے نہیں بچایا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! اسلام اسے ہی بچاتا ہے جو اس کے ساتھ بچنا چاہے۔
حدیث نمبر: 16852
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِالْكُوفَةِ رِجَالًا يُنْعِشُونَ حَدِيثَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ يَدْعُونَ إِلَيْهِمْ، فَكَتَبَ فِيهِمْ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُثْمَانُ: " أَنِ اعْرِضْ عَلَيْهِمْ دِينَ الْحَقِّ وَشَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَمَنْ قَبِلَهَا وَبَرِئَ مِنْ مُسَيْلِمَةَ فَلَا تَقْتُلْهُ، وَمَنْ لَزِمَ دِينَ مُسَيْلِمَةَ فَاقْتُلْهُ " فَقَبِلَهَا رِجَالٌ مِنْهُمْ فَتُرِكُوا، وَلَزِمَ دِينَ مُسَيْلِمَةَ رِجَالٌ فَقُتِلُوا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ایسے لوگ پکڑے جو مسیلمہ کذاب کے دین کی تبلیغ کر رہے تھے۔ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو جواب ملا کہ ان پر اسلام پیش کرو، توحید کی دعوت دو، اگر قبول کر لیں تو چھوڑ دو اور جو قبول نہ کرے اسے قتل کر دو، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا۔
حدیث نمبر: 16853
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ الْمُخَارِقِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ كَتَبَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ زَنَادِقَةٍ مُسْلِمِينَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمَّا الزَّنَادِقَةُ فَيُعْرَضُونَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَسْلَمُوا وَإِلَّا قُتِلُوا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زنادقہ کے بارے میں پوچھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ان پر اسلام پیش کیا جائے، اگر اسلام لے آئیں تو چھوڑ دو ورنہ قتل کر دو۔
حدیث نمبر: 16854
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: " الزِّنْدِيقُ إِنْ هُوَ جَحَدَ وَقَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ، وَإِنْ جَاءَ هُوَ مُعْتَرِفًا تَائِبًا فَإِنَّهُ يُتْرَكُ مِنَ الْقَتْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زنادقہ پر اسلام پیش کیا جائے گا تاکہ حجت قائم ہو، اگر وہ توبہ کر لیں تو ٹھیک ہے، ورنہ قتل کر دیے جائیں۔
حدیث نمبر: 16855
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الزِّنْدِيقِ: " يُقْتَلُ وَلَا يُسْتَتَابُ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ رحمہ اللہ زندیق کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔
حدیث نمبر: 16856
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَقَالَ مَالِكٌ: " لَا يُسْتَتَابُ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُ مَنْ قَالَ: يُسْتَتَابُ، فَإِنْ تَابَ قُبِلَتْ تَوْبَتُهُ، وَحُقِنَ دَمُهُ، وَاللهُ وَلِيُّ مَا غَابَ، أَوْلَى، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی توبہ قبول نہ کی جائے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو کہتے ہیں کہ توبہ قبول کی جائے گی ان کی بات ٹھیک ہے، باقی غیب اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔