السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16849
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ " أَنْ يَدْعُوَهُمْ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، وَيُنَبِّئَهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ فِيهِ وَعَلَيْهِمْ، وَيَحْرِصَ عَلَى هُدَاهُمْ، فَمَنْ أَجَابَهُ مِنَ النَّاسِ كُلِّهِمْ، أَحْمَرِهِمْ وَأَسْوَدِهِمْ، كَانَ يَقْبَلُ ذَلِكَ مِنْهُ، بِأَنَّهُ إِنَّمَا يُقَاتِلُ مَنْ كَفَرَ بِاللهِ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللهِ، فَإِذَا أَجَابَ الْمَدْعُوُّ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَصَدَقَ إِيمَانُهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ سَبِيلٌ، وَكَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ حَسِيبَهُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْهُ إِلَى مَا دَعَاهُ إِلَيْهِ مِنَ الْإِسْلَامِ مِمَّنْ يَرْجِعُ عَنْهُ أَنْ يَقْتُلَهُ ".حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو مرتدین کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا تو فرمایا: انہیں پہلے اسلام کی دعوت دینا، انہیں احساس دلانا اور ان کی ہدایت کی کوشش کرنا اور جو سمجھ جائے واپس لوٹ آئے اس سے قبول کرنا۔ لڑنا ان کے خلاف جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں اور جو اسلام قبول کر لے تو اس کا راستہ چھوڑ دینا، ان کا حساب اللہ پر ہے اور جو نہ مانے اس سے قتال کرنا۔