❮
❯
حدیث نمبر: 16848
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ، فَلَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِياتِ مَا نَزَلَ بِأَبِي لَهَاضَهَا، فَوَاللهِ مَا اخْتَلَفُوا فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِحَظِّهَا وَغَنَائِهَا فِي الْإِسْلَامِ، وَكَانَتْ تَقُولُ مَعَ هَذَا: وَمَنْ رَأَى ابْنَ الْخَطَّابِ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ غَنَاءَ الْإِسْلَامِ، كَانَ وَاللهِ أَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدَهُ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ فوت ہو گئے تو عرب مرتد ہو گئے اور مدینہ میں نفاق پھیل گیا۔ اگر وہ مصیبتیں جو میرے والد پر نازل ہوئیں، پہاڑوں پر نازل ہوتیں تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتے۔ واللہ! جو بھی اسلام پر حملہ ہوا میرے والد نے اس کا دفاع کیا اور وہ اس کے ساتھ یہ بھی فرماتی تھیں کہ جس نے ابن خطاب (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کو دیکھا وہ جان گیا کہ وہ پیدا ہی اسلام کی تقویت کے لیے ہوئے ہیں، اللہ کی قسم! وہ نہایت مستعد اور اپنی مثال آپ تھے، انہوں نے ہر معاملے کے لیے اس کے ہم پلہ تیاری کر رکھی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المرتد / حدیث: 16848
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»