السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: المقتول من أهل العدل بسيف أهل البغي في المعترك شهيد لا يغسل ولا يصلى عليه في أحد القولين باب: میدانِ جنگ میں باغیوں کی تلوار سے قتل ہونے والا اہلِ عدل (مسلم لشکر) کا فرد شہید ہے، دو اقوال میں سے ایک کے مطابق اسے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 16772
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْعَبْدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي شَيْخِ مُهَاجِرٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ صُوحَانَ الْعَبْدِيَّ، كَانَ يَوْمَ الْجَمَلِ يَحْمِلُ رَايَةَ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَارْتُثَّ جَرِيحًا فَقَالَ: لَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا، وَشُدُّوا عَلَيَّ ثِيَابِي، فَإِنِّي مُخَاصِمٌ قَالَ أَبُو عَلِيٍّ حَنْبَل: إِمَّا مُخَاصِمٌ أَوْ مُخَاصَمٌ.حافظ ثناء اللہ
ابو شیخ مہاجر کہتے ہیں کہ جنگِ جمل میں زید بن صوحان رضی اللہ عنہ نے بنو عبدالقیس کا جھنڈا اٹھایا ہوا تھا، وہ زخمی ہو کر گر پڑے تو فرمایا: میرا خون مجھ سے نہ دھونا اور انہی کپڑوں کو مجھ پر مضبوطی سے لپیٹ دینا، میں قیامت کے روز جھگڑا کروں گا۔