السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: المقتول من أهل العدل بسيف أهل البغي في المعترك شهيد لا يغسل ولا يصلى عليه في أحد القولين باب: میدانِ جنگ میں باغیوں کی تلوار سے قتل ہونے والا اہلِ عدل (مسلم لشکر) کا فرد شہید ہے، دو اقوال میں سے ایک کے مطابق اسے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 16771
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي، فَإِنِّي مُخَاصِمٌ.حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے میرے کپڑوں ہی میں دفن کرنا، میں قیامت کے دن ان سے جھگڑا کروں گا۔