السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: المقتول من أهل العدل بسيف أهل البغي في المعترك شهيد لا يغسل ولا يصلى عليه في أحد القولين باب: میدانِ جنگ میں باغیوں کی تلوار سے قتل ہونے والا اہلِ عدل (مسلم لشکر) کا فرد شہید ہے، دو اقوال میں سے ایک کے مطابق اسے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 16773
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرُّزَازُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ⦗٣٢٢⦘ لَيْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنَّا مُسْتَشْهِدُونَ غَدًا، فَلَا تَغْسِلُوا عَنَّا الثِّيَابَ، وَلَا تُكَفِّنُونَا إِلَّا فِي ثَوْبٍ كَانَ عَلَيْنَا. كَذَا قَالَ هَؤُلَاءِ، وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْجَنَائِزِ عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَهَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن عبید رحمہ اللہ نے ایک خطبہ دیا اور فرمایا: کل اگر ہم شہید ہو جائیں تو نہ ہمیں غسل دینا، نہ کپڑے اتارنا اور نہ کفن دینا مگر انہی کپڑوں میں جو ہم پر ہیں۔
کتاب الجنائز میں ہم یہ روایت بیان کر آئے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہما پر نماز جنازہ پڑھی۔