السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: لا يبدأ الخوارج بالقتال حتى يسألوا ما نقموا، ثم يؤمروا بالعود، ثم يؤذنوا بالحرب باب: خوارج کے خلاف اس وقت تک قتال کا آغاز نہ کیا جائے جب تک کہ ان سے ان کے اعتراضات کی وجہ نہ پوچھی جائے، پھر انہیں حق کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جائے، اور (نہ ماننے پر) پھر انہیں جنگ سے خبردار کیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطُّرْسُوسِيُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ⦗٣١٠⦘ الْيَمَامِيُّ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكُ الْحَنَفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِيَّةُ اجْتَمَعُوا فِي دَارٍ، وَهُمْ سِتَّةُ آلَافٍ، أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُبْرِدُ بِالظُّهْرِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُكَلِّمَهُمْ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ، قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا، قَالَ: فَخَرَجْتُ آتِيهُمْ، وَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، فَأَتَيْتُهُمْ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ فِي دَارٍ، وَهُمْ قَائِلُونَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ، فَمَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الْحُلَلِ، وَنَزَلَتْ {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ} [الأعراف: ٣٢]، قَالُوا: فَمَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، لِأُبَلِّغَكُمْ مَا يَقُولُونَ، وَتُخْبِرُونَ بِمَا تَقُولُونَ، فَعَلَيْهِمْ نَزَلَ الْقُرْآنُ، وَهُمْ أَعْلَمُ بِالْوَحْيِ مِنْكُمْ، وَفِيهِمْ أُنْزِلَ وَلَيْسَ فِيكُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُخَاصِمُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّ اللهَ يَقُولُ: {بَل هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: ٥٨]، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَتَيْتُ قَوْمًا لَمْ أَرَ قَوْمًا قط أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُم، مُسَهَّمَةً وُجُوهُهُمْ مِنَ السَّهَرِ، كَأَنَّ أَيْدِيَهُمْ وَرُكَبَهُمْ ثَفِنٌ، عَلَيْهِمْ قُمُصٌ مُرَحَّضَةٌ، قَالَ بَعْضُهُمْ: لَنُكَلِّمَنَّهُ وَلَنَنْظُرَنَّ مَا يَقُولُ، قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَاذَا نَقَمْتُمْ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِهْرِهِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ؟ قَالُوا: ثَلَاثًا، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَمَّا إِحْدَاهُنَّ، فَإِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللهِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: ٥٧]، وَمَا لِلرِّجَالِ وَمَا لِلْحُكْمِ؟ فَقُلْتُ: هَذِهِ وَاحِدَةٌ، قَالُوا: وَأَمَّا الْأُخْرَى، فَإِنَّهُ قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، فَلَئِنْ كَانَ الَّذِينَ قَاتَلَ كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّ سَبْيُهُمْ وَغَنِيمَتُهُمْ، وَإِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ مَا حَلَّ قِتَالُهُمْ، قُلْتُ: هَذِهِ ثِنْتَانِ، فَمَا الثَّالِثَةُ؟ قَالُوا: إِنَّهُ مَحَا اسْمَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ، قُلْتُ: أَعِنْدَكُمْ سِوَى هَذَا؟ قَالُوا: حَسْبُنَا هَذَا، فَقُلْتُ لَهُمْ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللهِ وَمِنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَرُدُّ بِهِ قَوْلَكُمْ أَتَرْضَوْنَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللهِ، فَأَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ مَا قَدْ رَدَّ حُكْمَهُ إِلَى الرِّجَالِ فِي ثَمَنِ رُبْعِ دِرْهَمٍ فِي أَرْنَبٍ وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: ٩٥] إِلَى قَوْلِهِ: {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: ٩٥]، فَنَشَدْتُكُمْ بِاللهِ أَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي أَرْنَبٍ وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ أَفْضَلُ أَمْ حُكْمُهُمْ فِي دِمَائِهِمْ وَإِصْلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ، وَأَنْ تَعَلَمُوا أَنَّ اللهَ لَوْ شَاءَ لَحَكَمَ وَلَمْ يُصَيِّرْ ذَلِكَ إِلَى الرِّجَالِ، وَفِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا، إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: ٣٥]، فَجَعَلَ اللهُ حُكْمَ الرِّجَالِ سُنَّةً مَاضِيَةً، أَخْرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: قَاتَلَ فَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ عَائِشَةَ، ثُمَّ تَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا⦗٣١١⦘ يُسْتَحَلُّ مِنْ غَيْرِهَا؟ فَلَئِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ كَفَرْتُمْ، وَهِيَ أُمُّكُمْ، وَلَئِنْ قُلْتُمْ: لَيْسَتْ بِأُمِّنَا لَقَدْ كَفَرْتُمْ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦]، فَأَنْتُمْ تَدُورُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ، أَيُّهُمَا صِرْتُمْ إِلَيْهَا صِرْتُمْ إِلَى ضَلَالَةٍ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قُلْتُ: أَخْرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا آتِيكُمْ بِمَنْ تَرْضَوْنَ، أُرِيكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ كَاتَبَ الْمُشْرِكِينَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: " اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ "، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَا وَاللهِ مَا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولَ اللهِ مَا قَاتَلْنَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُكَ، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ "، فَوَاللهِ لِرَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ، وَمَا أَخْرَجَهُ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ مَحَا نَفْسَهُ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَرَجَعَ مِنَ الْقَوْمِ أَلْفَانِ، وَقُتِلَ سَائِرُهُمْ عَلَى ضَلَالَةٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حروری نکلے تو وہ چھ ہزار تھے۔ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! ظہر کو ٹھنڈا کر لیں تاکہ میں اس قوم کے پاس جا کر ان سے بات کر سکوں۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے تمہارا ڈر ہے۔“ میں نے کہا: ”ہرگز نہیں۔“ فرماتے ہیں: میں نکلا اور ایک بہترین یمنی حلہ پہنا اور ان کے پاس گیا۔ وہ ایک گھر میں سب جمع تھے۔ میں نے ان کو سلام کہا تو انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور پوچھا: ”یہ حلہ کیسا؟“ میں نے کہا: ”تم اس حلے پر تعجب کرتے ہو! میں نے نبی ﷺ کو اس سے اعلیٰ حلے میں دیکھا ہے اور یہ آیت بھی اتری ہے: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [سورة الأعراف: 32]۔“ کہنے لگے: ”کیوں آئے ہو؟“ میں نے کہا: ”میں مہاجرین و انصار صحابہ کی طرف سے آیا ہوں تاکہ ان کی بات تم تک اور تمہاری ان تک پہنچا دوں۔ ان کے وقت میں قرآن نازل ہوا اور تم سے زیادہ وحی کو وہ جانتے ہیں اور تم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔“ تو بعض نے کہا: ”تم قریش سے نہ لڑو، اللہ تو فرماتا ہے: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ﴾ [سورة الزخرف: 58]۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑھ کر اجتہاد کرنے والا نہیں دیکھا کہ جن کے چہرے رات کے جاگنے سے پھول گئے ہوں، گویا ان کے ہاتھ پاؤں خشک ہو گئے ہوں اور ان کے بدن پر پسینے سے بھیگے ہوئے کپڑے ہوں، تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور ان سے بات کریں گے اور غور کریں گے جو وہ کہتے ہیں۔ میں نے کہا: ”مجھے بتاؤ، تمہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ان کی جماعت مہاجرین اور انصار سے کیا شکایت ہے؟“ انہوں نے کہا: ”تین۔“ میں نے کہا: ”کون سی؟“ پہلی یہ کہ انہوں نے اللہ کے امر میں لوگوں کو حاکم بنا لیا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلّٰهِ﴾ [سورة الأنعام: 57] تو لوگوں کے لیے کیا ہے اور حکم کے لیے کیا ہے؟ میں نے کہا: ”یہ ایک ہے۔“ میں نے کہا: ”دوبارہ شکایت؟“ کہنے لگے کہ انہوں نے آپس میں جنگ کی لیکن نہ تو کسی نے کسی کو قیدی بنایا نہ ہی مالِ غنیمت لوٹا۔ اگر ان میں سے ایک کافر تھا تو پھر قیدی اور غنیمت کیوں نہیں بنے، اگر دونوں مسلمان تھے تو پھر ان کی لڑائی کیسے حلال ہوئی؟ میں نے کہا: ”یہ دو ہو گئیں، تیسری بتاؤ۔“ کہنے لگے کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ امیر المؤمنین مٹا دیا تو کیا وہ امیر الکافرین ہیں؟ میں نے کہا: ”کیا اور بھی کوئی اعتراض ہے؟“ کہنے لگے: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ”اگر میں قرآن و سنت سے تمہارے اعتراضات کے جواب دوں تو کیا مانو گے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو میں نے انہیں کہا: ”تمہارا یہ اعتراض کہ انہوں نے لوگوں کو اللہ کے امر میں حاکم بنایا ہے (فیصلہ کیا)۔ میں تم پر قرآن کی آیت پڑھتا ہوں کہ جس میں حکم لوگوں کی طرف پھیرا گیا تھا، درہم کی ربع قیمت میں ارنب (خرگوش) کے بارے میں اور اس جیسے دوسرے شکاروں کے بارے میں فرمایا: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ...﴾ [سورة المائدة: 95] تو آپ یہ بتائیں کہ ان کا خرگوش کے بارے میں یہ فیصلہ تو قبول کر لیتے ہیں لیکن ان کے اپنے خون اور باہم اصلاح کے لیے ان کو حکم تسلیم کیوں نہیں کرتے؟ اگر تم یہ جانتے ہو کہ اللہ چاہتے تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیتے، اسے مردوں کی طرف نہ لوٹاتے۔ خاوند اور بیوی کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا﴾ [سورة النساء: 35] تو لوگوں میں حکم بنانا یہ اللہ کا قدیم طریقہ ہے، تو کیا تمہاری اس بات کی اس سے تردید ہوتی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“
اور تمہارا یہ کہنا کہ یہ باہم لڑے، نہ قیدی بنایا نہ ہی غنیمت لوٹی، میں پوچھتا ہوں کہ کیا تم اپنی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بناتے اور پھر ان کے ساتھ بھی وہی چیزیں حلال ہو جاتیں جو دوسروں سے حلال ہوتی ہیں؟ اگر تم یہ کہتے ہو کہ ہاں حلال ہے تو بھی تم کافر، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے، اگر ماں ہونے کا انکار کرتے ہو تو تب بھی تم کافر۔ کیونکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: ﴿النَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] دونوں طرف تمہاری گمراہی ہے اب جس گمراہی میں مرضی گرو۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ کیا اس کا بھی میں نے جواب دے دیا؟ تو کہنے لگے: ”جی ہاں۔“ تو کہنے لگے: ”جو تمہارا تیسرا اعتراض ہے کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المؤمنین کا لقب ہٹا دیا تو میں تمہیں دلیل دیتا ہوں جسے تم ضرور مانو گے۔ تم نے نبی ﷺ کی وہ حدیث سنی ہے کہ جس میں ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی ﷺ نے جو مشرکین سے مکاتبت کی تھی ان کی طرف سے سہیل بن عمرو اور ابوسفیان تھے، تو نبی ﷺ نے امیر المؤمنین سے کہا تھا: ”اے علی! لکھ، یہ صلح نامہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہے۔“ تو مشرک کہنے لگے: ”نہیں واللہ! اگر ہم آپ کو رسول اللہ مان لیں تو جھگڑا کس بات کا۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ میں رسول اللہ ہوں۔“ لیکن ٹھیک ہے چلو علی یوں لکھو: ”یہ صلح نامہ ہے محمد بن عبداللہ ﷺ کی طرف سے۔“ تو نبی ﷺ امیر المؤمنین سے زیادہ افضل اور بہتر ہیں، تو کیا نبی ﷺ نے اپنے نام سے یہ لفظ مٹوا دیے تھے تو کیا ان کی نبوت ختم ہو گئی؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دو ہزار آدمی اسی قوم سے لوٹ آئے اور باقی سارے گمراہی پر مارے گئے۔