کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خوارج کے خلاف اس وقت تک قتال کا آغاز نہ کیا جائے جب تک کہ ان سے ان کے اعتراضات کی وجہ نہ پوچھی جائے، پھر انہیں حق کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جائے، اور (نہ ماننے پر) پھر انہیں جنگ سے خبردار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 16738
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ أُمَرَاءَهُ حِينَ كَانَ يَبْعَثُهُمْ فِي الرِّدَّةِ: " إِذَا غَشِيتُمْ دَارًا فَإِنْ سَمِعْتُمْ بِهَا أَذَانًا بِالصَّلَاةِ فَكُفُّوا حَتَّى تَسْأَلُوهُمْ مَاذَا نَقَمُوا، فَإِنْ لَمْ تَسْمَعُوا أَذَانًا فَشُنُّوهَا غَارَةً، وَاقْتُلُوا وَحَرِّقُوا وَانْهَكُوا فِي الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ، لَا يُرَى بِكُمْ وَهَنٌ لِمَوْتِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب اہل الردۃ سے جہاد کے لیے بھیجتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم ان کے گھروں تک پہنچ جاؤ تو رک جاؤ، اگر تم اذان کی آواز سنو تو ان سے ان کی ناراضگی کا سبب پوچھو، اگر اذان کی آواز نہ سنو تو حملہ کر دو، انہیں مارو، قتل کرو، جلاؤ، زخمی کرو، تمہارے نبی ﷺ کی موت کی وجہ سے تم میں موت کا خوف نہ آئے۔
حدیث نمبر: 16739
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّوَّافِ، ثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا أَبُو غَسَّانَ، ثَنَا زِيَادٌ الْبَكَّائِيُّ، ثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْجَهْمِ أَبِي الْجَهْمِ، مَوْلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: بَعَثَنِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّهْرِ إِلَى الْخَوَارِجِ، فَدَعَوْتُهُمْ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ نُقَاتِلَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل النہر کی طرف خوارج کے خلاف جہاد کے لیے بھیجا تو میں نے انہیں لڑنے سے پہلے تین مرتبہ دعوت دی۔
حدیث نمبر: 16740
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطُّرْسُوسِيُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ⦗٣١٠⦘ الْيَمَامِيُّ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكُ الْحَنَفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِيَّةُ اجْتَمَعُوا فِي دَارٍ، وَهُمْ سِتَّةُ آلَافٍ، أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُبْرِدُ بِالظُّهْرِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُكَلِّمَهُمْ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ، قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا، قَالَ: فَخَرَجْتُ آتِيهُمْ، وَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، فَأَتَيْتُهُمْ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ فِي دَارٍ، وَهُمْ قَائِلُونَ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ، فَمَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الْحُلَلِ، وَنَزَلَتْ {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ} [الأعراف: ٣٢]، قَالُوا: فَمَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، لِأُبَلِّغَكُمْ مَا يَقُولُونَ، وَتُخْبِرُونَ بِمَا تَقُولُونَ، فَعَلَيْهِمْ نَزَلَ الْقُرْآنُ، وَهُمْ أَعْلَمُ بِالْوَحْيِ مِنْكُمْ، وَفِيهِمْ أُنْزِلَ وَلَيْسَ فِيكُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُخَاصِمُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّ اللهَ يَقُولُ: {بَل هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: ٥٨]، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَتَيْتُ قَوْمًا لَمْ أَرَ قَوْمًا قط أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُم، مُسَهَّمَةً وُجُوهُهُمْ مِنَ السَّهَرِ، كَأَنَّ أَيْدِيَهُمْ وَرُكَبَهُمْ ثَفِنٌ، عَلَيْهِمْ قُمُصٌ مُرَحَّضَةٌ، قَالَ بَعْضُهُمْ: لَنُكَلِّمَنَّهُ وَلَنَنْظُرَنَّ مَا يَقُولُ، قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَاذَا نَقَمْتُمْ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِهْرِهِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ؟ قَالُوا: ثَلَاثًا، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَمَّا إِحْدَاهُنَّ، فَإِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللهِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: ٥٧]، وَمَا لِلرِّجَالِ وَمَا لِلْحُكْمِ؟ فَقُلْتُ: هَذِهِ وَاحِدَةٌ، قَالُوا: وَأَمَّا الْأُخْرَى، فَإِنَّهُ قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، فَلَئِنْ كَانَ الَّذِينَ قَاتَلَ كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّ سَبْيُهُمْ وَغَنِيمَتُهُمْ، وَإِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ مَا حَلَّ قِتَالُهُمْ، قُلْتُ: هَذِهِ ثِنْتَانِ، فَمَا الثَّالِثَةُ؟ قَالُوا: إِنَّهُ مَحَا اسْمَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ، قُلْتُ: أَعِنْدَكُمْ سِوَى هَذَا؟ قَالُوا: حَسْبُنَا هَذَا، فَقُلْتُ لَهُمْ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللهِ وَمِنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَرُدُّ بِهِ قَوْلَكُمْ أَتَرْضَوْنَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللهِ، فَأَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ مَا قَدْ رَدَّ حُكْمَهُ إِلَى الرِّجَالِ فِي ثَمَنِ رُبْعِ دِرْهَمٍ فِي أَرْنَبٍ وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: ٩٥] إِلَى قَوْلِهِ: {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: ٩٥]، فَنَشَدْتُكُمْ بِاللهِ أَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي أَرْنَبٍ وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ أَفْضَلُ أَمْ حُكْمُهُمْ فِي دِمَائِهِمْ وَإِصْلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ، وَأَنْ تَعَلَمُوا أَنَّ اللهَ لَوْ شَاءَ لَحَكَمَ وَلَمْ يُصَيِّرْ ذَلِكَ إِلَى الرِّجَالِ، وَفِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا، إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: ٣٥]، فَجَعَلَ اللهُ حُكْمَ الرِّجَالِ سُنَّةً مَاضِيَةً، أَخْرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: قَاتَلَ فَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ عَائِشَةَ، ثُمَّ تَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا⦗٣١١⦘ يُسْتَحَلُّ مِنْ غَيْرِهَا؟ فَلَئِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ كَفَرْتُمْ، وَهِيَ أُمُّكُمْ، وَلَئِنْ قُلْتُمْ: لَيْسَتْ بِأُمِّنَا لَقَدْ كَفَرْتُمْ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦]، فَأَنْتُمْ تَدُورُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ، أَيُّهُمَا صِرْتُمْ إِلَيْهَا صِرْتُمْ إِلَى ضَلَالَةٍ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قُلْتُ: أَخْرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا آتِيكُمْ بِمَنْ تَرْضَوْنَ، أُرِيكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ كَاتَبَ الْمُشْرِكِينَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: " اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ "، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَا وَاللهِ مَا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولَ اللهِ مَا قَاتَلْنَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُكَ، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ "، فَوَاللهِ لِرَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ، وَمَا أَخْرَجَهُ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ مَحَا نَفْسَهُ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَرَجَعَ مِنَ الْقَوْمِ أَلْفَانِ، وَقُتِلَ سَائِرُهُمْ عَلَى ضَلَالَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حروری نکلے تو وہ چھ ہزار تھے۔ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! ظہر کو ٹھنڈا کر لیں تاکہ میں اس قوم کے پاس جا کر ان سے بات کر سکوں۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے تمہارا ڈر ہے۔“ میں نے کہا: ”ہرگز نہیں۔“ فرماتے ہیں: میں نکلا اور ایک بہترین یمنی حلہ پہنا اور ان کے پاس گیا۔ وہ ایک گھر میں سب جمع تھے۔ میں نے ان کو سلام کہا تو انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور پوچھا: ”یہ حلہ کیسا؟“ میں نے کہا: ”تم اس حلے پر تعجب کرتے ہو! میں نے نبی ﷺ کو اس سے اعلیٰ حلے میں دیکھا ہے اور یہ آیت بھی اتری ہے: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [سورة الأعراف: 32]۔“ کہنے لگے: ”کیوں آئے ہو؟“ میں نے کہا: ”میں مہاجرین و انصار صحابہ کی طرف سے آیا ہوں تاکہ ان کی بات تم تک اور تمہاری ان تک پہنچا دوں۔ ان کے وقت میں قرآن نازل ہوا اور تم سے زیادہ وحی کو وہ جانتے ہیں اور تم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔“ تو بعض نے کہا: ”تم قریش سے نہ لڑو، اللہ تو فرماتا ہے: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ﴾ [سورة الزخرف: 58]۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑھ کر اجتہاد کرنے والا نہیں دیکھا کہ جن کے چہرے رات کے جاگنے سے پھول گئے ہوں، گویا ان کے ہاتھ پاؤں خشک ہو گئے ہوں اور ان کے بدن پر پسینے سے بھیگے ہوئے کپڑے ہوں، تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور ان سے بات کریں گے اور غور کریں گے جو وہ کہتے ہیں۔ میں نے کہا: ”مجھے بتاؤ، تمہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ان کی جماعت مہاجرین اور انصار سے کیا شکایت ہے؟“ انہوں نے کہا: ”تین۔“ میں نے کہا: ”کون سی؟“ پہلی یہ کہ انہوں نے اللہ کے امر میں لوگوں کو حاکم بنا لیا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلّٰهِ﴾ [سورة الأنعام: 57] تو لوگوں کے لیے کیا ہے اور حکم کے لیے کیا ہے؟ میں نے کہا: ”یہ ایک ہے۔“ میں نے کہا: ”دوبارہ شکایت؟“ کہنے لگے کہ انہوں نے آپس میں جنگ کی لیکن نہ تو کسی نے کسی کو قیدی بنایا نہ ہی مالِ غنیمت لوٹا۔ اگر ان میں سے ایک کافر تھا تو پھر قیدی اور غنیمت کیوں نہیں بنے، اگر دونوں مسلمان تھے تو پھر ان کی لڑائی کیسے حلال ہوئی؟ میں نے کہا: ”یہ دو ہو گئیں، تیسری بتاؤ۔“ کہنے لگے کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ امیر المؤمنین مٹا دیا تو کیا وہ امیر الکافرین ہیں؟ میں نے کہا: ”کیا اور بھی کوئی اعتراض ہے؟“ کہنے لگے: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ”اگر میں قرآن و سنت سے تمہارے اعتراضات کے جواب دوں تو کیا مانو گے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو میں نے انہیں کہا: ”تمہارا یہ اعتراض کہ انہوں نے لوگوں کو اللہ کے امر میں حاکم بنایا ہے (فیصلہ کیا)۔ میں تم پر قرآن کی آیت پڑھتا ہوں کہ جس میں حکم لوگوں کی طرف پھیرا گیا تھا، درہم کی ربع قیمت میں ارنب (خرگوش) کے بارے میں اور اس جیسے دوسرے شکاروں کے بارے میں فرمایا: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ...﴾ [سورة المائدة: 95] تو آپ یہ بتائیں کہ ان کا خرگوش کے بارے میں یہ فیصلہ تو قبول کر لیتے ہیں لیکن ان کے اپنے خون اور باہم اصلاح کے لیے ان کو حکم تسلیم کیوں نہیں کرتے؟ اگر تم یہ جانتے ہو کہ اللہ چاہتے تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیتے، اسے مردوں کی طرف نہ لوٹاتے۔ خاوند اور بیوی کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا﴾ [سورة النساء: 35] تو لوگوں میں حکم بنانا یہ اللہ کا قدیم طریقہ ہے، تو کیا تمہاری اس بات کی اس سے تردید ہوتی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“
اور تمہارا یہ کہنا کہ یہ باہم لڑے، نہ قیدی بنایا نہ ہی غنیمت لوٹی، میں پوچھتا ہوں کہ کیا تم اپنی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بناتے اور پھر ان کے ساتھ بھی وہی چیزیں حلال ہو جاتیں جو دوسروں سے حلال ہوتی ہیں؟ اگر تم یہ کہتے ہو کہ ہاں حلال ہے تو بھی تم کافر، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے، اگر ماں ہونے کا انکار کرتے ہو تو تب بھی تم کافر۔ کیونکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: ﴿النَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] دونوں طرف تمہاری گمراہی ہے اب جس گمراہی میں مرضی گرو۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ کیا اس کا بھی میں نے جواب دے دیا؟ تو کہنے لگے: ”جی ہاں۔“ تو کہنے لگے: ”جو تمہارا تیسرا اعتراض ہے کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المؤمنین کا لقب ہٹا دیا تو میں تمہیں دلیل دیتا ہوں جسے تم ضرور مانو گے۔ تم نے نبی ﷺ کی وہ حدیث سنی ہے کہ جس میں ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی ﷺ نے جو مشرکین سے مکاتبت کی تھی ان کی طرف سے سہیل بن عمرو اور ابوسفیان تھے، تو نبی ﷺ نے امیر المؤمنین سے کہا تھا: ”اے علی! لکھ، یہ صلح نامہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہے۔“ تو مشرک کہنے لگے: ”نہیں واللہ! اگر ہم آپ کو رسول اللہ مان لیں تو جھگڑا کس بات کا۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ میں رسول اللہ ہوں۔“ لیکن ٹھیک ہے چلو علی یوں لکھو: ”یہ صلح نامہ ہے محمد بن عبداللہ ﷺ کی طرف سے۔“ تو نبی ﷺ امیر المؤمنین سے زیادہ افضل اور بہتر ہیں، تو کیا نبی ﷺ نے اپنے نام سے یہ لفظ مٹوا دیے تھے تو کیا ان کی نبوت ختم ہو گئی؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دو ہزار آدمی اسی قوم سے لوٹ آئے اور باقی سارے گمراہی پر مارے گئے۔
اور تمہارا یہ کہنا کہ یہ باہم لڑے، نہ قیدی بنایا نہ ہی غنیمت لوٹی، میں پوچھتا ہوں کہ کیا تم اپنی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بناتے اور پھر ان کے ساتھ بھی وہی چیزیں حلال ہو جاتیں جو دوسروں سے حلال ہوتی ہیں؟ اگر تم یہ کہتے ہو کہ ہاں حلال ہے تو بھی تم کافر، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے، اگر ماں ہونے کا انکار کرتے ہو تو تب بھی تم کافر۔ کیونکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: ﴿النَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] دونوں طرف تمہاری گمراہی ہے اب جس گمراہی میں مرضی گرو۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا کہ کیا اس کا بھی میں نے جواب دے دیا؟ تو کہنے لگے: ”جی ہاں۔“ تو کہنے لگے: ”جو تمہارا تیسرا اعتراض ہے کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المؤمنین کا لقب ہٹا دیا تو میں تمہیں دلیل دیتا ہوں جسے تم ضرور مانو گے۔ تم نے نبی ﷺ کی وہ حدیث سنی ہے کہ جس میں ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی ﷺ نے جو مشرکین سے مکاتبت کی تھی ان کی طرف سے سہیل بن عمرو اور ابوسفیان تھے، تو نبی ﷺ نے امیر المؤمنین سے کہا تھا: ”اے علی! لکھ، یہ صلح نامہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہے۔“ تو مشرک کہنے لگے: ”نہیں واللہ! اگر ہم آپ کو رسول اللہ مان لیں تو جھگڑا کس بات کا۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ میں رسول اللہ ہوں۔“ لیکن ٹھیک ہے چلو علی یوں لکھو: ”یہ صلح نامہ ہے محمد بن عبداللہ ﷺ کی طرف سے۔“ تو نبی ﷺ امیر المؤمنین سے زیادہ افضل اور بہتر ہیں، تو کیا نبی ﷺ نے اپنے نام سے یہ لفظ مٹوا دیے تھے تو کیا ان کی نبوت ختم ہو گئی؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دو ہزار آدمی اسی قوم سے لوٹ آئے اور باقی سارے گمراہی پر مارے گئے۔
حدیث نمبر: 16741
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَبَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَهَا، مَرْجِعَهُا مِنَ الْعِرَاقِ لَيَالِيَ قُوتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِذْ قَالَتْ لِي: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ شَدَّادٍ، هَلْ أَنْتَ صَادِقِي عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ؟ حَدِّثْنِي عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ، قُلْتُ: وَمَا لِي لَا أَصْدُقُكِ؟ قَالَتْ: فَحَدِّثْنِي عَنْ قِصَّتِهِمْ، قُلْتُ: إِنَّ عَلِيًّا لَمَّا أَنْ كَاتَبَ مُعَاوِيَةَ، وَحَكَّمَ الْحَكَمَيْنِ، خَرَجَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةُ آلَافٍ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ فَنَزَلُوا أَرْضًا مِنْ جَانِبِ الْكُوفَةِ، يُقَالُ لَهَا: حَرُورَاءُ، وَإِنَّهُمْ أَنْكَرُوا عَلَيْهِ، فَقَالُوا انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِيصٍ أَلْبَسَكَهُ اللهُ وَأَسْمَاكَ بِهِ، ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَكَمْتَ فِي دِينِ اللهِ، وَلَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، فَلَمَّا أَنْ بَلَغَ عَلِيًّا مَا عَتَبُوا عَلَيْهِ وَفَارَقُوهُ أَمَرَ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ: لَا يَدْخُلَنَّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ، فَلَمَّا أَنِ امْتَلَأَ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ الدَّارُ، دَعَا بِمُصْحَفٍ عَظِيمٍ فَوَضَعَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَطَفِقَ يَصُكُّهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: أَيُّهَا الْمُصْحَفُ حَدِّثِ النَّاسَ، فَنَادَاهُ النَّاسُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَسْأَلُهُ عَنْهُ، إِنَّمَا هُوَ وَرَقٌ وَمِدَادٌ، وَنَحْنُ نَتَكَلَّمُ بِمَا رَوَيْنَا مِنْهُ، فَمَاذَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أَصْحَابُكُمْ الَّذِينَ خَرَجُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللهِ تَعَالَى، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ} [النساء: ٣٥]، فَأُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنَ امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ، وَنَقَمُوا عَلَيَّ أَنِّي كَاتَبْتُ مُعَاوِيَةَ وَكَتَبْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَقَدْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ حِينَ صَالَحَ قَوْمَهُ قُرَيْشًا، ⦗٣١٢⦘ فَكَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ "، فَقَالَ سُهَيْلٌ: لَا تَكْتُبْ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ: بِاسْمِكَ اللهُمَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبْهُ "، ثُمَّ قَالَ: " اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ "، فَقَالَ: لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ لَمْ نُخَالِفُكَ، فَكَتَبَ: " هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قُرَيْشًا "، يَقُولُ اللهُ فِي كِتَابِهِ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخَرَ} [الأحزاب: ٢١]، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْكَرَهُمْ قَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: يَا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ إِنَّ هَذَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ فَأَنَا أَعْرِفُهُ مِنْ كِتَابِ اللهِ، هَذَا مَنْ نَزَلَ فِيهِ وَفِي قَوْمِهِ {بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: ٥٨]، فَرُدُّوهُ إِلَى صَاحِبِهِ، وَلَا تُوَاضِعُوهُ كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَقَامَ خُطَبَاؤُهُمْ فَقَالُوا: وَاللهِ لَنُوَاضِعَنَّهُ كِتَابَ اللهِ، فَإِذَا جَاءَنَا بِحَقٍّ نَعْرِفُهُ اتَّبَعْنَاهُ، وَلَئِنْ جَاءَنَا بِالْبَاطِلِ لَنُبَكِّتَنَّهُ بِبَاطِلِهِ، وَلَنَرُدَّنَّهُ إِلَى صَاحِبِهِ، فَوَاضَعُوهُ عَلَى كِتَابِ اللهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، كُلُّهُمْ تَائِبٌ، فَأَقْبَلَ بِهِمُ ابْنُ الْكَوَّاءِ حَتَّى أَدْخَلَهُمْ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى بَقِيَّتِهِمْ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ، قِفُوا حَيْثُ شِئْتُمْ حَتَّى تَجْتَمِعَ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَنَزَّلُوا فِيهَا حَيْثُ شِئْتُمْ، بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ نَقِيَكُمْ رِمَاحَنَا مَا لَمْ تَقْطَعُوا سَبِيلًا وَتَطْلُبُوا دَمًا، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَيْكُمُ الْحَرْبَ عَلَى سَوَاءٍ، إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا ابْنَ شَدَّادٍ، فَقَدْ قَتَلَهُمْ؟ فَقَالَ: وَاللهِ مَا بَعَثَ إِلَيْهِمْ حَتَّى قَطَعُوا السَّبِيلَ، وَسَفَكُوا الدِّمَاءَ، وَقَتَلُوا ابْنَ خَبَّابٍ، وَاسْتَحَلُّوا أَهْلَ الذِّمَّةِ، فَقَالَتْ: آللَّهِ؟ قُلْتُ: آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كَانَ، قَالَتْ: فَمَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يَتَحَدَّثُونَ بِهِ يَقُولُونَ: ذُو الثَّدْيِ، ذُو الثَّدْيِ، قُلْتُ: قَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَقَفْتُ عَلَيْهِ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَتْلَى، فَدَعَا النَّاسَ فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَمَا أَكْثَرُ مَنْ جَاءَ يَقُولُ: قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي، وَرَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي، فَلَمْ يَأْتُوا بِثَبْتٍ يُعْرَفُ إِلَّا ذَلِكَ، قَالَتْ: فَمَا قَوْلُ عَلِيٍّ حِينَ قَامَ عَلَيْهِ كَمَا يَزْعُمُ أَهْلُ الْعِرَاقِ؟ قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، قَالَتْ: فَهَلْ سَمِعْتَ أَنْتَ مِنْهُ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: اللهُمَّ لَا، قَالَتْ: أَجَلْ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، يَرْحَمُ اللهُ عَلِيًّا، إِنَّهُ مِنْ كَلَامِهِ: كَانَ لَا يَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ إِلَّا قَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر آئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: ”اے عبداللہ! میں تم سے کچھ پوچھتی ہوں، کیا تم سچ بتاؤ گے؟ مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتاؤ جن کو علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔“ میں نے کہا: میں آپ کو سچ کیوں نہیں بتاؤں گا؟ تو وہ کہنے لگیں: تو ان کا قصہ بیان کرو۔ میں نے کہا کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کی اور کہا کہ دو میں سے ایک حکم مقرر کر لو تو آٹھ ہزار لوگ ان سے جدا ہو گئے اور حروراء نامی جگہ چلے گئے اور کہنے لگے: ”علی رضی اللہ عنہ کو اللہ نے جو قمیض پہنائی تھی، وہ انہوں نے اتار دی (پھاڑ دی)۔ وہ حکم مقرر کرتے ہیں حالانکہ حکم تو صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔“ جب یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے ان پر عتاب کیا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، پھر وہ جدا ہو گئے تو ایک منادی نے اعلان کیا کہ امیر المؤمنین کے پاس وہ لوگ آئیں جن کے پاس قرآن (کا علم) ہو۔ جب گھر قراء سے بھر گیا تو آپ نے ایک بڑا مصحف منگوایا اور اسے اپنے سامنے رکھا اور اس کے اوراق الٹ پلٹ کرنے لگے اور فرمانے لگے: ”اے مصحف! لوگوں کے سامنے بیان کرو۔“ تو لوگ کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! یہ تو کاغذ اور سیاہی ہے، یہ کیسے کلام کرے گا؟ ہم ہی اس سے روایت کرتے ہیں، آپ کیا چاہتے ہیں؟ تو فرمایا: ”لوگوں نے تمہارے ساتھیوں میں سے میرے اور ان کے درمیان اس قرآن سے کچھ باتیں نکالی ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 35] اور نبی ﷺ کی زوجہ تمام مردوں اور عورتوں سے زیادہ حرمت والی ہے، اور انہوں نے مجھ پر اعتراض کیا تھا کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کرتے ہوئے علی بن ابی طالب لکھا تھا، تو تمہیں یاد ہوگا کہ مشرکین سے مکاتبت کرتے ہوئے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنا نام مٹایا تھا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21]۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں کی طرف بھیجا اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم ان کے درمیان پہنچے تو ابن الکواء کھڑا ہوا اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہا: اے حاملینِ قرآن! یہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، تم میں سے جو انہیں نہیں پہچانتا میں اسے بتاتا ہوں کہ ان کے بارے میں قرآن میں ہے کہ ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [سورة الزخرف: 58] ”بلکہ یہ لوگ جھگڑالو قوم ہیں۔“ ان کی بات نہ سننا اور انہیں واپس لوٹا دو۔ تو قوم کے خطباء کہنے لگے: ”ہم تو قرآن پر فیصلہ رکھیں گے، ان کی بات سنیں گے، اگر انہوں نے حق بات کہی تو ہم اسے پہچان لیں گے اور اگر باطل بات کہی تو ہم اس باطل کو ان پر رد کر دیں گے اور اسے ان کے صاحب کی طرف واپس لوٹا دیں گے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں سمجھایا تو چار ہزار لوگ توبہ کر کے واپس آ گئے اور ان میں ابن الکواء بھی تھا۔ باقی لوگوں کی طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لشکر بھیجا اور فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ ہمارے اور ان کے درمیان اب کیا معاملہ ہے؟ لہٰذا امت محمدیہ کی شیرازہ بندی کے لیے جو ضروری ہو وہ کرو، اگر وہ باز نہ آئیں تو ان سے جنگ کرو، بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: کیا انہوں نے انہیں قتل کر دیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جا کر راستے مسدود کر دیے، ناحق خون بہایا، ابن خباب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور اہل ذمہ کے مال و جان کو بھی حلال سمجھ لیا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اللہ کی قسم اٹھاؤ؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! بالکل اسی طرح ہوا ہے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اہل عراق سے مجھے جو بات بھی پہنچی، وہ یہی کہتے تھے: ”ذو الثدیہ! (بڑے پستان والا) ذو الثدیہ!“ میں نے کہا کہ میں وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا تو انہوں نے لوگوں کو بلایا اور (مقتولین میں اس شخص کی لاش دکھا کر) پوچھا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ تو جو بھی آتا وہ یہی کہتا: میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے، میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں دیکھا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: علی رضی اللہ عنہ اس وقت کیا کہہ رہے تھے؟ میں نے کہا: وہ فرما رہے تھے: «صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ» ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔“ انہوں نے پوچھا: کیا تم نے خود ان سے یہ سنا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی کچھ سنا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ”اللہ تعالیٰ علی رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ جب بھی کوئی ایسی پسندیدہ چیز دیکھتے تھے تو اسی طرح کہا کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 16742
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ عَبْدَةَ السَّلِيطِيُّ، ثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: عَرَضَ عَلَيَّ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَنَحْنُ عِنْدَهَا، مَرْجِعَهُ مِنَ الْعِرَاقِ لَيَالِيَ قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ ⦗٣١٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ: حَدِيثُ الثُّدَيَّةِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِيمَا مَضَى، وَيَجُوزُ أَنْ لَا يَسْمَعَهُ ابْنُ شَدَّادٍ، وَسَمِعَهُ غَيْرُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“
حدیث نمبر: 16743
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، قَالَ: أُرَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، أَوْ عَمٌّ لِي، قَالَ: لَمَّا تَوَاقَفْنَا يَوْمَ الْجَمَلِ، وَقَدْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ صَفَّنَا نَادَى فِي النَّاسِ: " لَا يَرْمِيَنَّ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، وَلَا يَطْعَنُ بِرُمْحٍ، وَلَا يَضْرِبُ بِسَيْفٍ، وَلَا تَبْدَؤُا الْقَوْمَ بِالْقِتَالِ، وَكَلِّمُوهُمْ بِأَلْطَفِ الْكَلَامِ، وَأَظُنُّهُ قَالَ: فَإِنَّ هَذَا مَقَامٌ مَنْ فَلَجَ فِيهِ فَلَجَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَمْ نَزَلْ وُقُوفًا حَتَّى تَعَالَى النَّهَارُ، حَتَّى نَادَى الْقَوْمُ بِأَجْمَعِهِمْ: يَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَادَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُحَمَّدًا ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ، وَهُوَ إِمَامُنَا وَمَعَهُ اللِّوَاءُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ مَا يَقُولُونَ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا مُحَمَّدٌ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ فَرَفَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدَيْهِ فَقَالَ: اللهُمَّ كُبَّ الْيَوْمَ قَتَلَةَ عُثْمَانَ لِوُجُوهِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے چچا نے بیان کیا کہ جب ہم جنگِ جمل کے لیے تیار ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی تیر سے نہ مارے اور نہ نیزے سے اور نہ تلوار سے، تم نے لڑائی میں پہل نہیں کرنی اور ان سے نرم بات کرنی ہے، اور مجھے گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا: جو آج کامیاب ہو گیا، وہ روزِ قیامت بھی کامیاب ہو گا۔ ہم اسی حالت میں رہے کہ دن ہو گیا تو ایک شخص نے بلند آواز سے پکارا: ہائے عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کو پکارا، وہ ہمارے آگے تھے اور ان کے پاس جھنڈا تھا، پوچھا: اے ابنِ حنفیہ! وہ کیا پکار رہے ہیں؟ جواب دیا: وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ کی بات کر رہے ہیں، اے امیر المؤمنین! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور فرمایا: اے اللہ! آج ان کے منہ کے بل قتلِ عثمان کو پچھاڑ دے۔
حدیث نمبر: 16744
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، ثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ذِي الْجَنَاحَيْنِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَمْ يُقَاتِلْ أَهْلَ الْجَمَلِ حَتَّى دَعَا النَّاسَ ثَلَاثًا، حَتَّى إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ دَخَلَ عَلَيْهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فقَالُوا: قَدْ أَكْثَرُوا فِينَا الْجِرَاحَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي وَاللهِ مَا جَهِلْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِمْ إِلَّا مَا كَانُوا فِيهِ، وَقَالَ: صُبَّ لِي مَاءً، فَصَبَّ لَهُ مَاءً فَتَوَضَّأَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَدَعَا رَبَّهُ، وَقَالَ لَهُمْ: إِنْ ظَهَرْتُمْ عَلَى الْقَوْمِ فَلَا تَطْلُبُوا مُدْبِرًا، وَلَا تُجِيزُوا عَلَى جَرِيحٍ، وَانْظُرُوا مَا حَضَرَتْ بِهِ الْحَرْبُ مِنْ آنِيَةٍ فَاقْبُضُوهُ، وَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ لَمْ يَأْخُذْ شَيْئًا، وَلَمْ يَسْلُبْ قَتِيلًا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل میں اس وقت تک لڑائی شروع نہ کی جب تک تین دن تک لوگوں کو دعوت نہ دیتے رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا حسن، سیدنا حسین اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم آپ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے زخمی زیادہ ہو رہے ہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے! میں سب دیکھ رہا ہوں، میرے لیے پانی لاؤ، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا، دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے دعا کی اور پھر ان کو کہا: اگر اس قوم پر غلبہ دے تو انہیں پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہ کرنا، کسی زخمی پر زیادتی نہ کرنا اور جنگ میں جو برتن ہیں انہیں قبضہ میں لے لینا اور جو اس کے علاوہ ہے وہ ان کے وارثوں کے لیے ہے۔
فرماتے ہیں: یہ منقطع ہے؛ کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کچھ بھی نہیں لیا تھا۔
فرماتے ہیں: یہ منقطع ہے؛ کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کچھ بھی نہیں لیا تھا۔
حدیث نمبر: 16745
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أَبُو مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي بَشِيرٍ الشَّيْبَانِيُّ، فِي قِصَّةِ حَرْبِ الْجَمَلِ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ يَأْخُذُ الْمُصْحَفَ؟ ثُمَّ يَقُولُ لَهُمْ: مَاذَا تَنْقُمُونَ، تُرِيقُونَ دِمَاءَنَا وَدِمَاءَكُمْ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: إِنَّكَ مَقْتُولٌ، قَالَ: لَا أُبَالِي، قَالَ: خُذِ الْمُصْحَفَ، قَالَ: فَذَهَبَ ⦗٣١٤⦘ إِلَيْهِمْ فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ قَالَ مِنَ الْغَدِ مِثْلَ مَا قَالَ بِالْأَمْسِ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: إِنَّكَ مَقْتُولٌ كَمَا قُتِلَ صَاحِبُكَ، قَالَ: لَا أُبَالِي، قَالَ: فَذَهَبَ فَقُتِلَ، ثُمَّ قُتِلَ آخَرُ، كُلَّ يَوْمٍ وَاحِدٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ حَلَّ لَكُمْ قِتَالُهُمُ الْآنَ، قَالَ: فَبَرَزَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ فَاقْتَتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو بَشِيرٍ: فَرَدَّ عَلَيْهِمْ مَا كَانَ فِي الْعَسْكَرِ حَتَّى الْقِدْرَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبشیر شیبانی رحمہ اللہ جنگِ جمل کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سب بصرہ میں جمع ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مصحف کون پکڑے گا؟ پھر انہیں کہا: تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم ہمارے اور اپنے خون بہا رہے ہو؟ ایک شخص نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو قتل ہو جائے گا۔ اس نے کہا: کوئی بات نہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مصحف لے لو۔ وہ گیا تو انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین لوگوں کو مصحف دے کر بھیجا، لیکن انہوں نے انہیں قتل کر دیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب قتال حلال ہو گیا، تو بہت گھمسان کی جنگ ہوئی اور پھر آگے مکمل وہ حدیث بیان کی جو جنگِ جمل کے بارے میں گزر چکی ہے۔