السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: لا يبدأ الخوارج بالقتال حتى يسألوا ما نقموا، ثم يؤمروا بالعود، ثم يؤذنوا بالحرب باب: خوارج کے خلاف اس وقت تک قتال کا آغاز نہ کیا جائے جب تک کہ ان سے ان کے اعتراضات کی وجہ نہ پوچھی جائے، پھر انہیں حق کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جائے، اور (نہ ماننے پر) پھر انہیں جنگ سے خبردار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 16739
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّوَّافِ، ثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا أَبُو غَسَّانَ، ثَنَا زِيَادٌ الْبَكَّائِيُّ، ثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْجَهْمِ أَبِي الْجَهْمِ، مَوْلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: بَعَثَنِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّهْرِ إِلَى الْخَوَارِجِ، فَدَعَوْتُهُمْ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ نُقَاتِلَهُمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل النہر کی طرف خوارج کے خلاف جہاد کے لیے بھیجا تو میں نے انہیں لڑنے سے پہلے تین مرتبہ دعوت دی۔