السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: لا يبدأ الخوارج بالقتال حتى يسألوا ما نقموا، ثم يؤمروا بالعود، ثم يؤذنوا بالحرب باب: خوارج کے خلاف اس وقت تک قتال کا آغاز نہ کیا جائے جب تک کہ ان سے ان کے اعتراضات کی وجہ نہ پوچھی جائے، پھر انہیں حق کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جائے، اور (نہ ماننے پر) پھر انہیں جنگ سے خبردار کیا جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَبَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَهَا، مَرْجِعَهُا مِنَ الْعِرَاقِ لَيَالِيَ قُوتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِذْ قَالَتْ لِي: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ شَدَّادٍ، هَلْ أَنْتَ صَادِقِي عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ؟ حَدِّثْنِي عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ، قُلْتُ: وَمَا لِي لَا أَصْدُقُكِ؟ قَالَتْ: فَحَدِّثْنِي عَنْ قِصَّتِهِمْ، قُلْتُ: إِنَّ عَلِيًّا لَمَّا أَنْ كَاتَبَ مُعَاوِيَةَ، وَحَكَّمَ الْحَكَمَيْنِ، خَرَجَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةُ آلَافٍ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ فَنَزَلُوا أَرْضًا مِنْ جَانِبِ الْكُوفَةِ، يُقَالُ لَهَا: حَرُورَاءُ، وَإِنَّهُمْ أَنْكَرُوا عَلَيْهِ، فَقَالُوا انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِيصٍ أَلْبَسَكَهُ اللهُ وَأَسْمَاكَ بِهِ، ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَكَمْتَ فِي دِينِ اللهِ، وَلَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، فَلَمَّا أَنْ بَلَغَ عَلِيًّا مَا عَتَبُوا عَلَيْهِ وَفَارَقُوهُ أَمَرَ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ: لَا يَدْخُلَنَّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ، فَلَمَّا أَنِ امْتَلَأَ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ الدَّارُ، دَعَا بِمُصْحَفٍ عَظِيمٍ فَوَضَعَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَطَفِقَ يَصُكُّهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: أَيُّهَا الْمُصْحَفُ حَدِّثِ النَّاسَ، فَنَادَاهُ النَّاسُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَسْأَلُهُ عَنْهُ، إِنَّمَا هُوَ وَرَقٌ وَمِدَادٌ، وَنَحْنُ نَتَكَلَّمُ بِمَا رَوَيْنَا مِنْهُ، فَمَاذَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أَصْحَابُكُمْ الَّذِينَ خَرَجُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللهِ تَعَالَى، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ} [النساء: ٣٥]، فَأُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنَ امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ، وَنَقَمُوا عَلَيَّ أَنِّي كَاتَبْتُ مُعَاوِيَةَ وَكَتَبْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَقَدْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ حِينَ صَالَحَ قَوْمَهُ قُرَيْشًا، ⦗٣١٢⦘ فَكَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ "، فَقَالَ سُهَيْلٌ: لَا تَكْتُبْ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ: بِاسْمِكَ اللهُمَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبْهُ "، ثُمَّ قَالَ: " اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ "، فَقَالَ: لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ لَمْ نُخَالِفُكَ، فَكَتَبَ: " هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قُرَيْشًا "، يَقُولُ اللهُ فِي كِتَابِهِ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخَرَ} [الأحزاب: ٢١]، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْكَرَهُمْ قَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: يَا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ إِنَّ هَذَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ فَأَنَا أَعْرِفُهُ مِنْ كِتَابِ اللهِ، هَذَا مَنْ نَزَلَ فِيهِ وَفِي قَوْمِهِ {بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: ٥٨]، فَرُدُّوهُ إِلَى صَاحِبِهِ، وَلَا تُوَاضِعُوهُ كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَقَامَ خُطَبَاؤُهُمْ فَقَالُوا: وَاللهِ لَنُوَاضِعَنَّهُ كِتَابَ اللهِ، فَإِذَا جَاءَنَا بِحَقٍّ نَعْرِفُهُ اتَّبَعْنَاهُ، وَلَئِنْ جَاءَنَا بِالْبَاطِلِ لَنُبَكِّتَنَّهُ بِبَاطِلِهِ، وَلَنَرُدَّنَّهُ إِلَى صَاحِبِهِ، فَوَاضَعُوهُ عَلَى كِتَابِ اللهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، كُلُّهُمْ تَائِبٌ، فَأَقْبَلَ بِهِمُ ابْنُ الْكَوَّاءِ حَتَّى أَدْخَلَهُمْ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى بَقِيَّتِهِمْ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ، قِفُوا حَيْثُ شِئْتُمْ حَتَّى تَجْتَمِعَ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَنَزَّلُوا فِيهَا حَيْثُ شِئْتُمْ، بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ نَقِيَكُمْ رِمَاحَنَا مَا لَمْ تَقْطَعُوا سَبِيلًا وَتَطْلُبُوا دَمًا، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَيْكُمُ الْحَرْبَ عَلَى سَوَاءٍ، إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا ابْنَ شَدَّادٍ، فَقَدْ قَتَلَهُمْ؟ فَقَالَ: وَاللهِ مَا بَعَثَ إِلَيْهِمْ حَتَّى قَطَعُوا السَّبِيلَ، وَسَفَكُوا الدِّمَاءَ، وَقَتَلُوا ابْنَ خَبَّابٍ، وَاسْتَحَلُّوا أَهْلَ الذِّمَّةِ، فَقَالَتْ: آللَّهِ؟ قُلْتُ: آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كَانَ، قَالَتْ: فَمَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يَتَحَدَّثُونَ بِهِ يَقُولُونَ: ذُو الثَّدْيِ، ذُو الثَّدْيِ، قُلْتُ: قَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَقَفْتُ عَلَيْهِ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَتْلَى، فَدَعَا النَّاسَ فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَمَا أَكْثَرُ مَنْ جَاءَ يَقُولُ: قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي، وَرَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي، فَلَمْ يَأْتُوا بِثَبْتٍ يُعْرَفُ إِلَّا ذَلِكَ، قَالَتْ: فَمَا قَوْلُ عَلِيٍّ حِينَ قَامَ عَلَيْهِ كَمَا يَزْعُمُ أَهْلُ الْعِرَاقِ؟ قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، قَالَتْ: فَهَلْ سَمِعْتَ أَنْتَ مِنْهُ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: اللهُمَّ لَا، قَالَتْ: أَجَلْ صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، يَرْحَمُ اللهُ عَلِيًّا، إِنَّهُ مِنْ كَلَامِهِ: كَانَ لَا يَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ إِلَّا قَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ.عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر آئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: ”اے عبداللہ! میں تم سے کچھ پوچھتی ہوں، کیا تم سچ بتاؤ گے؟ مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتاؤ جن کو علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔“ میں نے کہا: میں آپ کو سچ کیوں نہیں بتاؤں گا؟ تو وہ کہنے لگیں: تو ان کا قصہ بیان کرو۔ میں نے کہا کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کی اور کہا کہ دو میں سے ایک حکم مقرر کر لو تو آٹھ ہزار لوگ ان سے جدا ہو گئے اور حروراء نامی جگہ چلے گئے اور کہنے لگے: ”علی رضی اللہ عنہ کو اللہ نے جو قمیض پہنائی تھی، وہ انہوں نے اتار دی (پھاڑ دی)۔ وہ حکم مقرر کرتے ہیں حالانکہ حکم تو صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔“ جب یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے ان پر عتاب کیا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، پھر وہ جدا ہو گئے تو ایک منادی نے اعلان کیا کہ امیر المؤمنین کے پاس وہ لوگ آئیں جن کے پاس قرآن (کا علم) ہو۔ جب گھر قراء سے بھر گیا تو آپ نے ایک بڑا مصحف منگوایا اور اسے اپنے سامنے رکھا اور اس کے اوراق الٹ پلٹ کرنے لگے اور فرمانے لگے: ”اے مصحف! لوگوں کے سامنے بیان کرو۔“ تو لوگ کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! یہ تو کاغذ اور سیاہی ہے، یہ کیسے کلام کرے گا؟ ہم ہی اس سے روایت کرتے ہیں، آپ کیا چاہتے ہیں؟ تو فرمایا: ”لوگوں نے تمہارے ساتھیوں میں سے میرے اور ان کے درمیان اس قرآن سے کچھ باتیں نکالی ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 35] اور نبی ﷺ کی زوجہ تمام مردوں اور عورتوں سے زیادہ حرمت والی ہے، اور انہوں نے مجھ پر اعتراض کیا تھا کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کرتے ہوئے علی بن ابی طالب لکھا تھا، تو تمہیں یاد ہوگا کہ مشرکین سے مکاتبت کرتے ہوئے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنا نام مٹایا تھا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21]۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں کی طرف بھیجا اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم ان کے درمیان پہنچے تو ابن الکواء کھڑا ہوا اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہا: اے حاملینِ قرآن! یہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، تم میں سے جو انہیں نہیں پہچانتا میں اسے بتاتا ہوں کہ ان کے بارے میں قرآن میں ہے کہ ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [سورة الزخرف: 58] ”بلکہ یہ لوگ جھگڑالو قوم ہیں۔“ ان کی بات نہ سننا اور انہیں واپس لوٹا دو۔ تو قوم کے خطباء کہنے لگے: ”ہم تو قرآن پر فیصلہ رکھیں گے، ان کی بات سنیں گے، اگر انہوں نے حق بات کہی تو ہم اسے پہچان لیں گے اور اگر باطل بات کہی تو ہم اس باطل کو ان پر رد کر دیں گے اور اسے ان کے صاحب کی طرف واپس لوٹا دیں گے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں سمجھایا تو چار ہزار لوگ توبہ کر کے واپس آ گئے اور ان میں ابن الکواء بھی تھا۔ باقی لوگوں کی طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لشکر بھیجا اور فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ ہمارے اور ان کے درمیان اب کیا معاملہ ہے؟ لہٰذا امت محمدیہ کی شیرازہ بندی کے لیے جو ضروری ہو وہ کرو، اگر وہ باز نہ آئیں تو ان سے جنگ کرو، بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: کیا انہوں نے انہیں قتل کر دیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جا کر راستے مسدود کر دیے، ناحق خون بہایا، ابن خباب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور اہل ذمہ کے مال و جان کو بھی حلال سمجھ لیا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اللہ کی قسم اٹھاؤ؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! بالکل اسی طرح ہوا ہے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اہل عراق سے مجھے جو بات بھی پہنچی، وہ یہی کہتے تھے: ”ذو الثدیہ! (بڑے پستان والا) ذو الثدیہ!“ میں نے کہا کہ میں وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا تو انہوں نے لوگوں کو بلایا اور (مقتولین میں اس شخص کی لاش دکھا کر) پوچھا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ تو جو بھی آتا وہ یہی کہتا: میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے، میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں دیکھا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: علی رضی اللہ عنہ اس وقت کیا کہہ رہے تھے؟ میں نے کہا: وہ فرما رہے تھے: «صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ» ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔“ انہوں نے پوچھا: کیا تم نے خود ان سے یہ سنا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی کچھ سنا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ”اللہ تعالیٰ علی رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ جب بھی کوئی ایسی پسندیدہ چیز دیکھتے تھے تو اسی طرح کہا کرتے تھے۔“